
اعتصام الحق
دنیا آج جن چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان میں سب سے خطرناک “تہذیبی تصادم یعنی ” (Clash of Civilizations) کا نظریہ ہے، جو بین الاقوامی تنازعات کو مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی اختلافات کی بنیاد پر دیکھتا ہے۔ امریکی مفکر سیموئل ہنٹنگٹن نے 1996 میں اپنی کتاب میں اس نظریے کو پیش کیا، جس کے بعد سے مغرب اور مشرق کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوئی۔ کئی تنازعات کو آج تل اسی نظریے کی بنیاد پر دیکھا جا تا ہے ۔کچھ اس کے حق میں اور کچھ اس کے خلاف دلائل دیتے رہے لیکن کسی نے بھی اس سے نکلنے کا راستہ تجویز نہیں کیا ۔
چین کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو کبھی بھی جارحیت کا استعمال نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے کا فروغ دنیا کی مشکلات اور تنازعات کے حل کا واحد راستہ ہے ۔اسی تناظر میں چین کے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کو دیکھا جا سکتا ہے جس میں یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ تہذیبوں کا تنوع ایک حقیقت اور دنیا کی خوبصورتی ہے اسے مکالمے سے حل کرنے اور اسے سمجھنے کی دعوت دیتا ہے ۔یہ تصور تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی پر زور دیتا ہے۔ 10 سے 11 جولائی 2025 تک ہونے والی “عالمی تہذیبی مکالمے کی کانفرنس” اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
آج دنیا میں جاری تنازعات جیسے روس-یوکرین جنگ، فلسطین-اسرائیل تصادم، اور مسئلہ کشمیر کو اگرچہ سیاسی اور معاشی مفادات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، لیکن ان کے پس پردہ تہذیبی اختلافات بھی کارفرما ہیں۔ مغربی ممالک اکثر اپنی جمہوری اقدار کو عالمی سطح پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دوسری تہذیبیں اسے اپنی شناخت کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ اس میں مغربی تہذیب اور روسی تہذیب کے درمیان تصادم کا پہلو بھی شامل ہے۔ روس اپنی تہذیبی خودمختاری کو قائم رکھنا چاہتا ہے، جبکہ مغرب یوکرین کو اپنے اثر میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ بھی صدیوں پرانا ہے، جس میں یہودی اور عرب تہذیبوں کا تصادم واضح ہے۔ مغربی ممالک اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک فلسطین کے حق میں ہیں۔ یہاں تہذیبی تفریق مزید گہرا ہوتا نظر آتا ہے۔ان تمام تنازعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں تہذیبی تفریق بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی امن خطرے میں ہے۔
صدر شی جن پھنگ نے 2023 میں گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو پیش کیا جو تہذیبوں کے درمیان مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی پر زور دیتا ہے۔ اس اقدام کے تین اہم نکات ہیں ۔پہلا نکتہ تہذیبوں کے باہمی احترام کا درس دیتا ہے ۔اس نکتے کے مطابق ہر تہذیب کی اپنی خوبیاں ہیں، اور کسی کو دوسری پر فوقیت حاصل نہیں۔دوسرا نکتہ مشترکہ ترقی کا ہے جس کے مطابق تہذیبی اختلافات کو تنازعات کی بجائے تعاون کے مواقع کے طور پر دیکھا جانا چاہئیے اور تیسرا نکتہ انسانی تقدیر کا مشترکہ تصور ہے جس میں چین کا ماننا ہے کہ تمام تہذیبیں مل کر ایک بہتر دنیا تشکیل دے سکتی ہیں۔
ان تمام نکات کی بہتر ترویج اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کے لئے بیجنگ میں ہونے والا مکالمہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کانفرنس میں مختلف ممالک، ثقافتوں اور مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی ہے جن کا مقصد باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانا ہے۔ چین کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہذیبی تصادم کی بجائے مکالمہ ہی دنیا کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس کانفرنس کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں شی جن پھنگ نے کہا کہ متنوع تہذیبیں دنیا کی حقیقی فطرت ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیب کی خوشحالی اور بنی نوع انسان کی ترقی تہذیبوں کے مابین تبادلوں اور باہمی سیکھ سے جڑی ہوئی ہیں۔صدر شی جن پھنگ کا کہنا تھا کہ اس وقت بین الاقوامی صورتحال افراتفری کا شکار ہے اور بنی نوع انسان ایک نئے دوراہے پر ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر تہذیبوں کے اختلافات کو تہذیبوں کے درمیان تبادلوں کے ذریعے دور کرنا ضروری ہے۔
مستقبل کی بات کریں تو چین کا عالمی تہذیبی اقدام اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن کیا یہ دنیا میں موجود شدید تنازعات کو ختم کر سکے گا؟ اس سوال کے جواب میں کچھ امیدیں اور چیلنجز دونوں موجود ہیں۔ مشترکہ معاشی مفادات کے تناظر میں دیکھیں تو دنیا میں معاشی “انٹر ڈیپنڈنس ” بڑھ رہی ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو جیسے منصوبے مختلف ممالک کو اقتصادی تعاون کی لڑی میں پرو رہے ہیں جس سے تہذیبی مکالمے کے بڑھنے کا امکان ہے ۔ چین کی اس کانفرنس سے مختلف تہذیبوں کے درمیان ثقافتی تبادلے بھی بڑھیں گے، جو باہمی نفرتوں کو کم کر سکتے ہیں اور سب سے اہم ہے نوجون نسل کا کردار ۔سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے نوجوان نسل مختلف ثقافتوں سے زیادہ جڑ رہی ہے، جو مستقبل میں تہذیبی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ بعض ممالک تہذیبی اختلافات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے مکالمہ مشکل ہو جاتا ہے۔مغربی ممالک اکثر اپنی اقدار کو عالمی معیار قرار دیتے ہیں، جو دیگر تہذیبوں کے لیے قابل قبول نہیں اور پھر بعض گروہ تہذیبی تفریق کو ہوا دے کر تشدد کو فروغ دیتے ہیں، جس سے امن کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔
صدر شی جن پھنگ کا ” گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو ” اور بیجنگ کانفرنس ایک روشن مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں تہذیبی تصادم کی بجائے مکالمہ اور تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ تاہم، اس کے لیے تمام ممالک کو اپنے تنگ نظریاتی خول سے باہر نکلنا ہوگا۔ اگر دنیا چین کے اس وژن کو اپنا لے، تو آنے والا دور تہذیبی ہم آہنگی، امن اور مشترکہ ترقی کا ہو سکتا ہے۔ بقول چینی صدر کہ “تہذیبیں ایک دوسرے سے متصادم نہیں، بلکہ یہ ایک دوسرے کو مکالمے سے تقویت دیتی ہیں۔























