لاہور سے کراچی جانے والے ایک مسافر کو نجی ایئر لائن کے عملے کی غفلت کے باعث غلطی سے جدہ پہنچا دیا گیا، جس سے مسافر اور جہاز کا عملہ دونوں پریشان رہ گئے۔ بعد ازاں مسافر کی شکایت پر پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی نے اس واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لاہور ایئرپورٹ کے منیجر نے اس واقعے کی ذمہ داری نجی ایئر لائن پر عائد کی ہے۔
ایئرپورٹ منیجر کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسافر کا جدہ پہنچ جانا متعلقہ ایئر لائن کی کوتاہی اور غفلت کا نتیجہ ہے، اور اتھارٹی نے اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مسافر نے بتایا کہ ڈومیسٹک ایئر لائن کی جگہ دو طیارے لگے ہوئے تھے، اور وہ ایئر ہوسٹس کو اپنا ٹکٹ بھی دکھا چکا تھا۔ تاہم، ایئر ہوسٹس کو چاہیے تھا کہ مسافر کو غلط فلائٹ میں سوار ہونے سے آگاہ کرتی۔
مسافر کے مطابق، اس کے پاس پاسپورٹ اور ویزا بھی نہیں تھا، اور تقریباً دو گھنٹے بعد جب اس نے فلائٹ کے کراچی نہ پہنچنے پر سوال کیا تو پورا عملہ پریشان ہو گیا اور اس پر غلطی تھوپ دی گئی۔
مسافر نے مزید کہا کہ جب اس نے کراچی پہنچانے کی درخواست کی تو کہا گیا کہ اس میں دو تین دن لگ سکتے ہیں اور ایف آئی اے تحقیقات کرے گی، جس میں وہ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق، کچھ دن پہلے ملک ذیشان نامی شخص نے لاہور سے کراچی کے لیے ٹکٹ خریدا تھا لیکن وہ غلطی سے جدہ پہنچ گیا۔ دوران پرواز مسافر کو عملے سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ غلط فلائٹ میں سوار ہے۔
اتھارٹی کے مطابق، اس غفلت میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے اعلیٰ حکام نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سمیت اسٹیشن منیجر کو بھی خط ارسال کر دیا گیا ہے۔























