
مومنہ اقبال کی جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر کیوں وائرل ہوئی؟ ، گوگل نیوز ٹی وی
مومنہ اقبال کی جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر کیوں وائرل ہوئی؟ ، گوگل نیوز ٹی وی
Momina Iqbal Kei Fake Video Social Media Per Kis Nai Viral Kei? | Googly News TV
============================
اداکارہ حمیرا اصغر کا بھائی بہن کی میت لے کر لاہور روانہ ہوگیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فلیٹ سے ملنے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش اہلخانہ نے وصول کرلی، جس کے بعد وہ مرحومہ کی میت لیکر لاہور روانہ ہوگئے ہیں۔
ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے میڈیا کو بتایا کہ ورثاء میت لاہور لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے حمیرا کی موت کے بارے میں فوری طور پر کسی شک و شبہے کا اظہار نہیں کیا ہے۔
حمیرا اصغر کا بھائی اور دیگر رشتہ دار پہلے کراچی میں ایس ایس پی ساؤتھ آفس، اس کے بعد ریسکیو ادارے کے سرد خانے پہنچے۔
گورنر سندھ کا اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کے انتظامات کرنے کا اعلان
اداکارہ حمیرا کے چھوٹے بھائی نوید اصغر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمیرا میری چھوٹی بہن تھی، لاش اگر پولیس کی کسٹڈی میں ہو تو قانونی تقاضے مکمل کرنے پڑتے ہیں۔
نوید اصغر نے کہا کہ ہم تین دن سے فلاحی ادارے اور پولیس سے رابطے میں تھے، ہم نے اب اپنی بہن حمیرا کی باڈی وصول کرلی ہے۔
واضح رہے کہ 8 جولائی کو اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں ایک فلیٹ سے ملی، وہ گزشتہ 7 سال سے اس کرائے کے فلیٹ میں مقیم تھیں، اداکارہ 2018ء میں لاہور سے کراچی منتقل ہوئی تھیں۔
ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کے مطابق خاتون فلیٹ میں 7 سال سے اکیلی رہ رہی تھیں، 2018ء میں فلیٹ کرائے پر لیا تھا اور وہ 2024ء سے کرایہ نہیں دے رہی تھیں۔
کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں مالک مکان نے کیس کیا تھا، بیلف آیا تو دروازہ بند تھا، دروازہ نہ کھلنے پر توڑا گیا تو کمرے میں زمین پر خاتون کی لاش پڑی تھی۔
========================
کوئٹہ سے لاہور جانے والی بسوں کے 9 مسافر اغوا کے بعد قتل
کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بسوں سے 9 مسافروں کو اغوا کرنے کے بعد ژوب میں قتل کردیا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے بتایا کہ دہشت گردوں نے مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد قتل کیا، جاں بحق مسافروں کی میتوں کو رکھنی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے تمام افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، بلوچستان حکومت اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے۔
شاہد رند نے کہا کہ جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، یہ ماضی کے واقعات کا ہی تسلسل ہے، یہ پاکستان کے امن اور یکجہتی پر حملہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فتنۃ الہندوستان نے آج تین دہشت گرد حملے کیے جسے پسپا کردیا گیا۔ فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ مسافر بسوں کے لیے این 70 پر سفر بند کیا ہوا تھا، یہ بس شام کے وقت چلی اور واقعہ پیش آیا، دہشت گردی سے متعلق جنرل تھریٹ موجود تھا۔
قبل ازیں ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ، قلات، مستونگ اور لورالائی میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے حملے کیے ہیں، تینوں مقامات پر سیکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپورجوابی کارروائی کی۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ عوام کی جان، مال اور املاک کی حفاظت کیلئے فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں۔























