
مہوش سلمان علی
=============
جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ طاقت کے استعمال اور جنگوں کے اصول بھی ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں حکمتِ عملی تبدیل ہو رہی ہے اور نتائج حیران کن ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اُس وقت شدت اختیار کر گئی جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اسرائیل نے ایرانی اسٹریٹجک تنصیبات اور فوجی اڈوں پر فضائی حملے اُس وقت کیے جب ایران کا کمیونیکیشن اور نیٹ ورک سسٹم کچھ گھنٹوں کے لیے مفلوج ہو چکا تھا۔ ایران کی جانب سے فوری جوابی کارروائی اس کے مواصلاتی نظام کی بحالی کے بعد ممکن ہوئی۔ اس قسم کی صورت حال اس پیمانے پر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اور اس تنازع میں سائبرٹیکنالوجی نے دونوں جانب ایک ابھرتی قوت کا اظہار کیا۔ جنگی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بظاہر جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا لیکن دونوں ممالک ایک دوسرے پر سائبر حملہ جاری رکھ سکتے ہے۔
اس سے قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی تنازع کئی حوالوں سے تاریخ کا حصہ بنا۔ اس تنازع کا سب سے اہم اور نیا پہلو سائبر وارفیئر تھا جو ایک فریق کو دوسرے پر عسکری برتری دلانے کا ذریعہ بنا۔
یقیناً روایتی جنگوں میں اسلحہ، فوجی حکمت عملی، اور تربیت یافتہ افواج کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے، لیکن اب ایک غیر روایتی جنگی دور کا آغاز ہو چکا ہے، جو زمین، فضا اور سمندر کے ساتھ ساتھ سائبر اسپیس میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی نے واضح کر دیا ہے کہ ممالک اب صرف انٹیلیجنس کے لیے نہیں بلکہ براہِ راست جنگی محاذ پر بھی سائبر اسپیس کو استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی حالیہ جھڑپوں کے دوران دفاعی ماہرین اور آزاد ذرائع نے اطلاع دی کہ الیکٹرو میگنیٹک اور سائبر ٹولز کے ذریعے فضائی جہازوں کے نیویگیشن سسٹمز کو متاثر کیا گیا اور مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ کم از کم ایک موقع پر سیٹلائٹ پر مبنی جدید جیمنگ سسٹمز استعمال کیے گئے تاکہ گائیڈڈ اسلحہ اور فوجی طیاروں کے سگنلز کو متاثر کیا جا سکے جس سے ہوائی اسلحے کو وقتی طور پر ناکارہ یا گمراہ کر دیا گیا۔
یہ واقعہ فوجی حکمت عملی میں ایک انقلابی تبدیلی کی علامت ہے۔ اب میزائل مارنے کی بجائے، ایک وائرس، جعلی سیٹلائٹ سگنل یا جی پی ایس لنک کا خاتمہ ایک پورے دفاعی نظام کو مفلوج کر سکتا ہے، وہ بھی بغیر کسی گولی چلائے۔
سائبر وارفیئر صرف ویب سائٹس ہیک کرنے یا دستاویزات لیک کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اہم ترین انفرا اسٹرکچر جیسے بجلی کے نظام، فوجی کمانڈ سسٹمز، ہوائی ٹریفک کنٹرول اور سیٹلائٹ لنکس کو کنٹرول یا ناکارہ بنانے کا عمل ہے۔
جب بھارت اور پاکستان جیسے ممالک اپنے فوجی نظام کو جدید ٹیکنالوجی مثلاً ڈرونز، سمارٹ اسلحہ، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی لاجسٹکس سے لیس کر رہے ہیں تو اس سے سائبر حملوں کا دائرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ دشمن کے لیے یہ موقع اور ترغیب دونوں پیدا کرتا ہے کہ وہ روایتی جنگ کی بجائے ڈیجیٹل کمزوریوں کو نشانہ بنائیں۔
اس بدلتے ہوئے منظرنامے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ مقامی ڈیٹا سیکیورٹی اور انفرا اسٹرکچر کا تحفظ اب ناگزیر ہے۔ حکومتوں اور دفاعی اداروں کو حساس ڈیٹا کو مقامی ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ کرنا ہوگا تاکہ غیر ملکی نگرانی یا تیسرے فریق کی کلاؤڈ سروسز کے ذریعے ہونے والی دراندازی سے بچا جا سکے۔
پاکستان کو مستقبل کی سائبر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائبر سیکیورٹی کے مضبوط فریم ورک میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی تاکہ دشمنوں پر سبقت قائم رکھی جا سکے۔
ڈیٹا آج کے دور کا سرمایہ اور اثاثہ ہے چاہے وہ ریاستی نوعیت کا ہو، اسٹریٹجک ہو، یا کاروباری اور صارفین کی معلومات پر مشتمل ہو اسے ہر قیمت پر محفوظ رکھنا لازم ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کے سرکاری اور نجی ادارے سائبر اسپیس کی لوکلائزیشن پر کام کر رہے ہیں جن میں قومی حدود کے اندر ڈیٹا سینٹرز کا قیام شامل ہے تاکہ خفیہ مگر عوامی ڈیٹا ملک کے اندر ہی رہے۔ ہمیں اپنے عوام کا ڈیٹا غیر ملکی اسٹوریج سے نکال کر مقامی ڈیٹا سینٹرز میں منتقل کرنا ہوگا کیونکہ روایتی جنگوں کا دور ختم ہو چکا مگر غیر روایتی سائبر جنگ جاری ہے، جو ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
پاکستان میں مختلف ادارے تقریباً 25 جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کر چکے ہیں جن میں مرکزی بینک، ٹیلی کام کمپنیاں، ڈیٹا سروس فراہم کرنے والے اور ڈیٹا والٹ شامل ہیں، جس نے ملک کا پہلا سولر پاورڈ ڈیٹا سینٹر قائم کیا۔
آنے والے وقت میں پاکستان کو خودمختار ڈیٹا سینٹرز کی استعداد کو مزید بڑھانا ہوگا، جن میں ملٹری گریڈ انکرپشن ہو۔ تمام اہم آئی ٹی اور دفاعی نظام میں سسٹمز اور فرم ویئر کی لازمی اپ ڈیٹس کو یقینی بنایا جائے؛ سائبر ماہرین کو فوجی اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کی تربیت دی جائے؛ اور اتحادیوں سے مل کر سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے مضبوط پروٹوکولز تیار کیے جائیں۔
سائبر جنگ میں ایک پرانا اور غیر اپڈیٹڈ سسٹم ایسے ہے جیسے ہتھیاروں کا لاک نہ کیا گیا ہو۔ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے سائبر حملے پرانی سافٹ ویئر اور فرم ویئر کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اسی لیے سسٹم اپ ڈیٹس — جنہیں عام طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے — سائبر حملوں سے بچاؤ کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔
دنیا بھر کی سائبر سیکیورٹی ایجنسیاں زیرو-ٹرسٹ آرکیٹیکچر، ریئل ٹائم تھریٹ ڈیٹیکشن، اور اے آئی پر مبنی اینوملی ڈیٹیکشن پر زور دیتی ہیں۔ لیکن ان سب کی بنیاد ایک مستقل، منظم اپ ڈیٹ اور بیک اپ پالیسی ہے، خاص طور پر فوجی اور حکومتی نیٹ ورکس کے لیے۔
ڈیجیٹل اسلحے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ جیسے دنیا نے کبھی ایٹمی اسلحہ بنانے کی دوڑ لگائی تھی ویسے ہی اب ممالک سائبر صلاحیتیں بنانے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ چاہے وہ جارحانہ ہوں یا دفاعی۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کا مطلب ہے کہ سائبر حکمت عملی کو قومی دفاعی پالیسی کا حصہ بنایا جائے، مخصوص سائبر کمانڈز قائم کی جائیں اور سائبر حملوں اور جوابی کارروائی کے واضح پروٹوکولز تیار کیے جائیں۔
حالیہ تنازع نے ایک بات واضح کر دی ہے: جو ڈیجیٹل دنیا کو کنٹرول کرے گا، وہی جنگوں کے مستقبل کو کنٹرول کرے گا۔ اگلا محاذ سرحد پر نہیں، بلکہ فائبر آپٹک کیبلز اور سیٹلائٹ سگنلز کے پار ہوگا۔
مہوش سلمان علی
رکن، فوربز ٹیکنالوجی کونسل | سی ای او، ڈیٹا والٹ























