میٹا کی پاکستان میں اردو زبان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کے فروغ کے لیے تعاون کا اعلان

میٹا نے پاکستان میں اردو زبان میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور ڈیجیٹل تعلیم کے حوالے سے تعاون کی پیشکش کی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ سے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے اعلیٰ حکام نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی، اے آئی کی ترقی اور نوجوانوں کی ڈیجیٹل تربیت پر بات چیت ہوئی۔

میٹا کے وفد کی قیادت صارم عزیر نے کی، جو جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے پبلک پالیسی ڈائریکٹر ہیں۔

ملاقات کے دوران شزا فاطمہ نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان کا خواب وزیراعظم شہباز شریف کا وژن ہے اور وہ ہفتہ وار کیش لیس معیشت کے اجلاس کی خود نگرانی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی سہولیات میں بہتری لائی جا رہی ہے اور حکومت نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کرنے کو اپنی اولین ترجیح دیتی ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کا بہتر استعمال ملک کی ترقی کی ضمانت ہے اور اردو میں اے آئی ماڈلز کی تیاری خوش آئند اور اہم پیش رفت ہے۔
میٹا کے وفد نے وفاقی وزیر کو اپنے جدید
LLaMA
ماڈلز اور تخلیقی مصنوعی ذہانت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور پاکستان میں ڈیجیٹل تعلیم اور اے آئی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا۔

صارم عزیر نے کہا کہ میٹا نہ صرف تکنیکی تربیت فراہم کرنا چاہتا ہے بلکہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی مقامی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

اس موقع پر شزا فاطمہ نے کہا کہ ڈیجیٹل ترقی میں سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری انتہائی اہم ہے اور حکومت ایسے اقدامات کا خیرمقدم کرتی ہے جو نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ کریں اور عوامی خدمات کو بہتر بنائیں۔