پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں اصلاحات اور آؤٹ سورسنگ: تعلیمی معیار بلند کرنے کا نیا منصوبہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی صدارت میں اسکول ایجوکیشن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ، اسکول میل پروگرام، اور دیگر تعلیمی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پہلی بار “اسکول آف دی منتھ” اور “ٹیچر آف دی منتھ” جیسے ایوارڈز دینے کا فیصلہ کیا گیا جو نظم و ضبط، تعلیمی معیار، اور دیگر عوامل کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے آن ویل مونٹیسری اسکول پراجیکٹ شروع کرنے اور سرکاری اسکولوں کے لیے پہلی مرتبہ بس سروس متعارف کرانے کے احکامات بھی جاری کیے۔

صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اجلاس کو بتایا کہ اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ سے طلبہ کی انرولمنٹ میں 99 فیصد اور اساتذہ کی تعداد میں 114 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ 60 ہزار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں۔ صرف 16 ماہ میں 13 لاکھ طلبہ کا اضافہ ہوا ہے اور مزید 10 ہزار سے زائد اسکول جلد آؤٹ سورس کیے جائیں گے۔ آؤٹ سورس اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری کی گئی ہے، جن میں نئے کلاس رومز، سولر انرجی، پانی کی فراہمی، اور فرنیچر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، ایجوکیشن ٹیک اسکولز، انگلش بول چال پروگرام، گوگل ٹریننگ، اور سائنس و ٹیکنالوجی لیبز کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم سرکاری اسکولوں کا معیار بہترین پرائیویٹ اسکولوں سے بھی بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔