ریڑھ کی ہڈی کو وطن واپسی پر پینشن کیوں نہیں؟؟؟

امیر محمد خان
=============

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں سمندرپارپاکستانیوں کے بچوں کا 5 فیصد کوٹا مختص کیا جارہا ہے، جامعات میں 10 ہزار سیٹوں میں سے 5 فیصد نشستیں اوورسیز پاکستانیوں کی ہوں گی اور میڈیکل کالجز میں اوور سیزپاکستانیوں کا کوٹا 15 فیصد ہوگا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے 3 ہزار بچوں کو میڈیکل کالج میں داخلہ دیا جائے گا، اوورسیز پاکستانیوں کے 5 ہزار بچوں کو ہنر سکھایا جائے گا، اورسیز پاکستانیوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں عمرکی حد میں پانچ سال کی چھوٹ ہے یہ بیانات کتنے خوش کن ہیں کانوں کو اچھے لگتے ہیں مگرجب بھیء اؤرسیز پاکستانی حکومتوں کے اسطرح کے اعلان کردہ بیانات کو سامنے رکھ کر اپنے نونہالوں کیلئے ان کالجوں، یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہوئے تو پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا لقب پانے والے اؤرسیز پاکستانیوں کو پاکستانی تعلیمی ادارے ریڑھ کی ہڈی کے بجائے سونے کا انڈہ دینے والی مثین سمجھتے ہیں اور ان سے داخلے کے وقت لاکھوں روپیہ تعلیمی ادارے کے ”فنڈ‘ کے نام پرطلب کرتے ہیں اور وزراء اعظم کے خوبصورت اعلانات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اؤرسیز پاکستانیوں کی خوشیوں کی حد صرف وہیں تک ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ ذرمبادلہ بھیجنے پر معیشت کی ریڑھ ہڈی کہہ دیا جاتا ہے یا انہیں بیرون ملک ”پاکستان کا سفیر کہہ دیا جاتا ہے۔ مارچ2025 میں سمندرپار پاکستانیوں نے 4.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات بھیجیں، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات ہماری مجموعی ایکسپورٹس سے زیادہ ہیں۔ وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق زیادہ ترسیلات بھیجنے والے 15 پاکستانیوں کو ایوارڈز دیے جائیں گے۔یہ بیان بھی بہت خوبصورت ہے مگر ہوگا ایساہی جیسا سب سے ذرمبادلہ بھیجے جانے والے سعودی عرب سے آئے ہوئے پاکستانیوں کے ساتھ ماضی قریب میں اؤرسیز کنونیشن میں ہوا کہ وہاں انکا ذکر بھی نہیں تھا داستانوں میں کچھ واقعی سرمایہ کار گئے تھے جو پاکستان میٰں بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں باقی ایک ہجوم تھا جو اس امید پر وہاں گیا تھا کہ ”ساڈے میاں صاحب سے ملاقات ہوگی “ مگر وہ بھی نہ ہوئی۔ گزشتہ مالی سال کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حکومت نے پاکستان میں ترسیلات زر کا نیا سنگ میل عبورکیا اورسالانہ بنیادوں پر55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فروری 2025ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر 3 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ مالی سال 25ء کے پہلے8 ماہ جولائی تا فروری کے دوران ترسیلات زر 23 ارب 97 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں ۔ پاکستان کو سب سے زیادہ سعودی عرب سے 74 کروڑ 44 لاکھ ڈالر موصول ہوئے، متحدہ عرب امارات سے 65کروڑ 22 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 50کروڑ اور امریکاسے 30 کروڑ 94 لاکھ ڈالر ملے۔ گزشتہ ماہ مارچ 2025ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر کی مد میں 4.1 ارب ڈالر آئے امیگریشن کے مطابق رواں سال پہلے 3 ماہ میں ایک لاکھ72ہزار 144پاکستانی ملازمت کی غرض سے بیرون ملک گئے سمندر پار پاکستانی تو وطن سے محبت کا اپنا فرض ادا کررہے ہیں اس تمام تحریر کا مقصد یہ ہے افرادی قوت تو پاکستان برآمد کرتا رہے گا ، شائد ذرمبادلہ میں اضافہ بھی ہوتا رہے، مگر کیا کبھی پہلے یا آج کی حکومت کے پاس ان معیشت کی ریڑھ کی ہڈیوں کے لئے بیرون ملک ملازمت ختم ہونے کے گھر لوٹ جانے پر کوئی پالیسی ہے؟؟؟نہیں ایسا کچھ نہیں،تو کیوں نہ حکومت یہ قدم اٹھانے پر سوچے کہ ملازمت کے
خاتمے پر وطن واپس ہونے پر قانونی طور پر ذرمبادلہ بھیجنے والوں کے کوئی پینشن اسکیم ک اجراء کیا جائے مگر یہ کام اسلئے مشکل ہے کہ نہ ہی حکومت، نہ ہی بیرون ملک سفارت خانوں، نہ ہی بیرون ملک قونصل خانوں کے پاس ان ملکوں خاص طور خلیج یا سعودی عرب میں پاکستانیوں کا کوئی DATA نہیں،ذرمبادلہ کتنا بھیجا اسکی تفصیل تو بعد کی بات ہے۔ پاکستانی معیشت کو پٹر ا بٹھانے میں اگر یہ کہا جائے کہ ان لوگوں کو دی جانے والی پینش جو حکومتی سطح پر کام کرنے والے چاہے سابق نوکر شاہی ہو، مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے ہوں، سابق جج صاحبان ہوں، صدور ہوں، وزراء اعظم ہوں انہیں دی جانے والی بعد ا ز ملازمت پینشن کا بڑا ہاتھ ہے۔ اعداد شمار کے مطابق حکومتی خزانے سے ان لوگوں کی پینشن کی مد میں 1.04ٹریلین، جو 3.5ملین ڈالر بنتا ہے دی جاتی ہے جبکہ انہوں نے دوران ملازمت ملکی معیشت کو ذرمبادلہ دینے کا کوئی کارہا ہے نمایاں انجام نہیں دیا۔ یہاں تک اراکین قومی اسمبلی بھی ”سابق“ہونے کے بعد پینشن کی اس لوٹ مار میں شامل ہیں، ان میں سے بیشتر تو کرپشن کے ذریعے بھی اربوں کے مالک بن جاتے ہیں یہ پیسہ بھی تو ملک کا پیسہ ہوتا ہے اور عام عوام کا ہوتا ہے جس سے وہ بیرون ملک جائیدادوں کے مالک بنے ہوئے ہیں تمام منتخب اراکین قومی اسمبلی (MNAs) اور سینیٹرز کم از کم 1 مدت (جلد تحلیل ہونے کی صورت میں 5 سال یا اس سے بھی کم) مکمل کرنے کے بعد تاحیات پنشن کے حقدار ہیں تمام منتخب اراکین قومی اسمبلی (MNAs) اور سینیٹرز کم از کم 1 مدت (جلد تحلیل ہونے کی صورت میں 5 سال یا اس سے بھی کم) مکمل کرنے کے بعد تاحیات پنشن کے حقدار ہیں میان نواز شریف اور شوکت عزیز تاحیات پینشن کے حقدار ہیں۔ سابق فوجی حضرات میں شہداء کے گھروں کو نکال کر 662 بلین روپیہ پینشن،شہری پنشن – بشمول سابق ججز، سابق بیوروکریٹس، اور دیگر وفاقی ملازمین: تقریباً۔ 228 بلین پینشن قومی خزانے سے وصول کرتے ہیں عہدہ کے مناسبت سے انہیں اس پینشن کے علاوہ دیگر مراعات بھی جاری رہتی ہیں مثال کے طور پر ،ذاتی ملازم، سیکورٹی اسٹاف، کار، گھر، اور ایک حد تک پیٹرول بھی شامل ہے پینشن کی اس رقم پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں چونکہ کہا جاتا ہے کہ دوسرے کو ملنے والی مراعات پر نظر نہ رکھو اللہ انہیں اور دے مگر یہاں میرامقصد یہ ہے کہ بیرون ملک ریڑھ کی ہڈی کہلانے والوں کو وطن واپس آنے پر کوئی تو مراعات ملیں اگر dataموجود ہو تو یہ بات پتہ لگ سکتی ہے کہ کس نے کتنا پیسہ بھیجا بیرون ملک ملازمت کے دوران، پاکستان کیلئے یہ کوئی انہونی یا مشکل بات نہیں ہندوستان، بنگلہ دیش، فلپائین اور شائدکسی اور ملک میں بھی ہو وطن واپس آنے پر ذرمبادلہ بھیجنے کے ریکارڈ کے مطابق مراعات حاصل ہوتی ہیں پاکستان اگر پینشن اور وطن واپسی پر مراعات کا اعلان کرے تو اعتماد اور مستقبل میں ترسیلات زر کو بھی فروغ دے گی، فلپائن کے پاس اپنے بیرون ملک کارکنوں کی مدد کا سب سے اچھا اور منظم نظام موجود ہے،ہندوستان کے پاس اپنے بیرون ملک مقیم کارکنوں کے لیے سماجی تحفظ اور پنشن اسکیمیں ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو خلیجی ممالک یا دیگر ممالک میں کام کررہے ہیں، بنگلہ دیش کا ایک بنک پرواسی بھارتیہ بیما یوجنا، بیرون ملک اپنے لوگو ں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اس بنک کے ذریعے رقم بنگلہ دیش رقم بھیجیں وہ وطن واپسی پر انہیں بہت سی مراعات دیتا ہے پاکستان میں کوئی مستحکم حکومت ہو تو پاکستانی تارکین وطن کیلئے اسکیمیں کا اعلان کوئی مشکل کام نہیں ہمارے ہاں تو گرین چینل کبھی کھلتا ہے کبھی بند ہوتا ہے ۔ پاکستانی سفراء بیرون ملک سے سفارشات تو حکومت کو ہی بھیجیں گے جہاں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی تو کیوں نہ پاکستانی کمیونٹی یہ درخواست فیلڈ مارشل کو پہنچائے متعلقہ وزارتیں انکی سفارشات یا احکامات کو مشکل سے ہی رد کرسکتے ہیں پاکستانی انکے نعرے کو کبھی نہ بھول سکے گے ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد“