نازیہ حسن سچ مچ منفرد تھیں

تحریر: سہیل دانش
وہ جو بھی تھی سچ مچ منفرد تھی۔ اِس اعتبار سے خوش قسمت بھی کہ اُس نے جو خواب دیکھے۔ زندگی میں انہیں پوری چمک دمک کے ساتھ حقیقت کے روپ میں ڈھلتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ایک روشن خیال گھرانے میں آنکھ کھولنے والی نازیہ حسن اب ہم میں نہیں۔ ماہ و سال گزرگئے۔ وہ تو کھوگئی۔ لیکن اُس کی مترنم آواز اور چہکتی مہکتی شخصیت پردوں کے پیچھے سے جھانکتی اور کانوں میں رس گھولتی محسوس ہوتی ہے۔ اُن کی والدہ محترمہ منیرہ بصیر ہمیشہ اپنے دونوں بچوں نازیہ اور زوہیب کے لئے نہ صرف محبت و اپنائیت کا استعارہ بنی رہیں۔ بلکہ قدم بہ قدم زندگی کی ہر سیڑھی پر مضبوطی سے ایک گائیڈ کے مانند اُن کا ہاتھ تھامے رہیں۔آج اپنے ریکارڈ باکس میں نازیہ حسن کی متعدد تصاویر جن کی پشت پر وہ تاریخ بھی درج تیں جس دن کیمرے کی آنکھ نے اُنہیں محفوظ کیا۔ بچپن، جوانی، ناقابلِ یقین شہرت کے ایام اور لندن میں قیام کے دوران زندگی کے آخری شب و روز اس دھوپ چھاؤں کا نام ہی زندگی ہے۔ وہ ایک ایسی زندگی گزارگئیں جس میں عزت شہرت اور دولت اُن پر برستی رہیں اور سب سے بڑھ کر محبتوں کے ہجوم نے اُنہیں اپنے حصار میں گھیرے رکھا۔ اخبارِ جہاں میں ہمارے دوست اسد جعفری سے محترمہ منیرہ بصیر کے ساتھ بڑے محبت و احترام کا رشتہ تھا۔ اس فیملی سے ابتدائی شناسائی اسی توسط سے ہوئی۔ پھر برادرم عبیداللہ بیگ کے ساتھ بھی منیرہ صاحبہ سے ملاقات کا موقع ملا۔ اُس وقت وہ اپنی اُجلی اور پرکشش شخصیت کی طرح بڑی خوبیوں کی مالک تھیں۔ شہرت کی وادی میں قدم رکھنے کے باوجود نازیہ سے مل کر یہ احساس ضرور ہوتا تھا کہ کامیابی کے ساتھ انکساری، خوشحالی کے ساتھ ذہانت اور شہرت کے ساتھ ظرف انسان کو منفرد بناتا ہے۔ نازیہ کی زندگی دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ حالت کتنے موافق کیوں نہ ہوں زندگی موٹروے نہیں ہے۔ یہ مانیٹر پر نظر آنے والی دِل کی دھڑکن کی طرح ہوتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جان لیوا بیماری نے اُن کی زندگی کو بہت جلد سرینڈر کرنے پر مجبورکردیا۔ اللہ تعالیٰ اِس باغ و بہار شخصیت کی مغفرت فرمائے۔