اٹلی میں ایک حیران کن اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک جوڑے نے اپنے بچوں کو لیبارٹری میں تیار کردہ وائرسز کے خدشے کے باعث پوری انسانی آبادی سے کاٹ کر الگ تھلگ کر دیا۔
عالمی سطح پر کورونا وائرس کی وبا نے کئی والدین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مستقبل میں بھی مصنوعی وائرسز پھیل سکتے ہیں، جس کے باعث ان کے بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اسی خوف کی بنیاد پر والدین نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو ہر قسم کے سماجی میل جول سے دور رکھیں گے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ وائرس سے محفوظ رہیں۔
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق والدین نے اٹلی کے شمالی علاقے کے جنگلات میں ایک سادہ سی جھونپڑی تعمیر کی اور وہیں رہائش اختیار کرلی۔ بچوں کو اسکول نہیں بھیجا گیا، اسپتالوں اور ڈاکٹروں سے بھی کوئی رابطہ نہیں رکھا گیا، اور انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا تک کی اجازت نہیں دی گئی۔
بچوں کی تعلیم والدین نے خود دی، جبکہ خوراک اور روزمرہ ضرورت کی چیزیں قدرتی ذرائع سے حاصل کی جاتی رہیں۔ والدین کا ماننا تھا کہ بچوں کو انسانی معاشرے سے دور رکھنا ہی ان کی صحت اور سلامتی کے لیے بہتر ہے۔
تاہم جب مقامی سوشل ورکرز اور حکام تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اس صورتحال کو بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ متعلقہ عدالت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو والدین سے لے کر ریاستی تحویل میں دے دیا اور ان کی دیکھ بھال اور تعلیم کے لیے محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
اس واقعے نے یورپ میں بچوں کے حقوق اور والدین کے خدشات کے درمیان توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Ask ChatGPT























