گزشتہ رات راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی شدید بارش کے بعد نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی وارننگ کے بعد واسا راولپنڈی نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر کے رین ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
منیجنگ ڈائریکٹر واسا محمد سلیم اشرف کے مطابق نکاسی آب کو یقینی بنانے کے لیے عملے کو ہیوی مشینری کے ساتھ حساس علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی چوک انڈر پاس اور مری روڈ پر بھی مشینری الرٹ رکھی گئی تاکہ کسی بھی وقت نکاسی آب شروع کی جا سکے۔ محکمہ موسمیات کے ڈیٹا کے مطابق سب سے زیادہ 80 ملی میٹر بارش سیدپور میں ریکارڈ ہوئی، جبکہ پی ایم ڈی میں 40 ملی میٹر، شمس آباد میں 20 ملی میٹر اور پیر ودھائی میں 15 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ایم ڈی واسا نے بتایا کہ نالہ لئی کے اطراف خاص طور پر سیدپور کے مقام پر ایک گھنٹے کے دوران 80 ملی میٹر بارش ہوئی، تاہم نالے کی سطح کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اور فی الحال پانی کی روانی معمول کے مطابق ہے۔ کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 11 فٹ تک گئی جبکہ گوالمنڈی پل پر سطح 5 فٹ ریکارڈ کی گئی، تاہم بارش تھمنے کے بعد پانی کی سطح دوبارہ کم ہو گئی ہے۔
واسا حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں پوری طرح تیار ہیں اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر نشیبی علاقوں میں نہ جائیں اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوراً واسا ہیلپ لائن سے مدد لیں۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 10 جولائی تک پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد اور پوٹھوہار ریجن میں وقفے وقفے سے شدید بارشیں جاری رہیں گی۔ اس دوران بعض علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علاقے بھی ممکنہ اربن فلڈنگ کی زد میں آ سکتے ہیں۔
مزید برآں 6 سے 8 جولائی کے دوران شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس سسٹم سے سندھ، بشمول کراچی میں بارش کا کوئی امکان نہیں۔ کے پی اور گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے ممکنہ سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔























