مصر کی 60 سالہ خاتون کی زندگی ایک آپریشن کے بعد مکمل طور پر بدل گئی ہے، کیونکہ اس آپریشن کے باعث ان کا وزن 400 کلوگرام تک پہنچ گیا ہے اور وہ جسمانی طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔
حجن فاطمہ پچھلے پندرہ سال سے شدید موٹاپے کی وجہ سے گھر کے ایک کونے میں قید ہیں اور نہ تو اپنے بستر سے اٹھ پاتی ہیں نہ باہر نکل سکتی ہیں۔ مصر کے شہر العاشر من رمضان کی رہائشی یہ خاتون پہلے اپنی فیملی کی دیکھ بھال کرتی تھیں، لیکن اب وہ نہ چل پھر سکتی ہیں، نہ کھا سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے بازو حرکت دے سکتی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، فاطمہ کی بیٹی نے بتایا کہ ان کی والدہ کا وزن بیس سال پہلے تقریباً 200 کلو تھا اور وہ اس وقت گھریلو کاموں میں مصروف تھیں۔ وزن کم کرنے کے لیے انہوں نے معدے کی تنگی کا آپریشن کروایا تھا، جس کے بعد ابتدا میں وزن کم ہوا لیکن پھر آپریشن میں پیچیدگیوں کی وجہ سے خون بہنے لگا اور وزن پھر تیزی سے بڑھنا شروع ہو گیا۔
اب ڈاکٹروں نے ایک اور آپریشن کا مشورہ دیا ہے، تاہم علاج کے لیے مالی مدد درکار ہے کیونکہ خاتون کو اسپتال لے جانا بھی ایک بڑا چیلنج ہے اور ممکنہ طور پر کرین کی ضرورت پڑے گی۔
فاطمہ نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ دوبارہ چل پھر سکیں، اپنے کام خود کر سکیں اور خدا کے حضور سجدہ کر سکیں۔ ان کے اہل خانہ مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ ان کا علاج ممکن ہو سکے۔
Ask ChatGPT























