لاہور میں ایک نوجوان پروفیسر دورانِ لیکچر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے، اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک نوجوان پروفیسر پوری توانائی کے ساتھ لیکچر دے رہے تھے کہ اچانک وہ زمین پر سجدہ ریز ہوکر گر جاتے ہیں۔ اس غیر متوقع منظر نے ہال میں موجود طلبہ اور دیگر افراد کو حیرت اور فکر میں مبتلا کردیا۔ جب ایک شخص فوراً آگے بڑھ کر پروفیسر کو سہارا دینے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ جانبر نہ ہو سکے۔
https://x.com/ChaudharyWad/status/1939920660299411759?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1939920660299411759%7Ctwgr%5Ef1277198df94f8a539872623027c4974e0aae655%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.urdupoint.com%2Fdaily%2Flivenews%2F2025-07-01%2Fnews-4476073.html
جاں بحق ہونے والے پروفیسر کی شناخت نیاز احمد کے نام سے ہوئی ہے، جو لاہور میں ٹیچرز ٹریننگ پروگرام میں لیکچر دے رہے تھے۔ مرحوم کا تعلق مظفر گڑھ کے علاقے شاہ جمال سے تھا، ان کی نمازِ جنازہ آبائی علاقے میں ادا کی جائے گی۔
طبی ماہرین کے مطابق دل کا دورہ، جسے میڈیکل اصطلاح میں مایوکارڈیل انفارکشن کہا جاتا ہے، اس وقت پیش آتا ہے جب دل تک خون پہنچانے والی شریانیں اچانک بند ہوجاتی ہیں، جس سے دل کے پٹھے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر فوری طور پر علاج نہ ہو تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
دل کا دورہ پڑنے کی بنیادی وجہ کورونری شریانوں میں رکاوٹ بننا ہے، جس کی بڑی وجہ چکنائی اور کولیسٹرول کا جمع ہونا ہے۔ اس کے علاوہ خون کے لوتھڑے بھی شریانوں کو بلاک کرسکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا اور خاندانی تاریخ بھی اس بیماری کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ دل کے دورے کی علامات میں سینے میں شدید درد، سانس لینے میں مشکل، متلی، قے، چکر آنا اور جسم کے مختلف حصوں جیسے بازو، گردن، جبڑے یا کمر میں درد شامل ہیں۔ ان علامات کی صورت میں فوری طبی امداد لینا ضروری ہے۔ علاج میں ادویات، انجیو پلاسٹی یا بائی پاس سرجری شامل ہیں۔
ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ تمباکو نوشی ترک کریں، متوازن غذا اپنائیں، ورزش کو معمول بنائیں، وزن قابو میں رکھیں اور ذیابیطس و بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھ کر اس جان لیوا بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔
Load/Hide Comments























