عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق ہر چھ میں سے ایک شخص تنہائی کا شکار ہے، جو صحت اور بہبود پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔ تنہائی کی وجہ سے ہر گھنٹے 100 اور سالانہ 871,000 اموات ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سماجی تعلقات صحت مند زندگی کے لیے ناگزیر ہیں، اور جب لوگوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے تو تنہائی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کمزور صحت، آمدنی کی کمی، اکیلے رہنے، سماجی ڈھانچے کی کمی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے عوامل کو اکیلے پن کی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں ڈیجیٹل رابطوں کے باوجود تنہائی بڑھ رہی ہے۔ تنہائی سے فالج، دل کی بیماریوں، ذہنی مسائل اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ سماجی رابطے زندگی کی حفاظت کرتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے حکومتوں اور معاشروں پر زور دیا ہے کہ وہ سماجی رابطوں کو صحت عامہ کی ترجیح بنائیں۔
Load/Hide Comments























