طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے غیر متوقع موسم اور برہم پترا و گنگا کے ڈیلٹا کے وسیع علاقے میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ڈینگی کے کیسز میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔
دو سالہ بیٹی کی ماں کے انتقال کے بعد دکھ بانٹتے ہوئے رکیب الاسلام راجن نے بتایا کہ جون کے اوائل میں ان کی اہلیہ زرین کا ڈینگی کے باعث انتقال ہوا۔ ’’زرین کو تیز بخار ہوا، بلڈ پریشر گر گیا اور وہ سانس نہ لے سکیں۔‘‘ راجن کا کہنا ہے کہ اُن کی چھوٹی بیٹی اب بھی ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک اپنی ماں کو ڈھونڈتی رہتی ہے۔
ڈینگی بخار کی شدت بڑھ جائے تو بعض مریضوں کو ناک اور منہ سے خون بہنے لگتا ہے یا اندرونی خون رُسنے لگتا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولوجی، ڈیزیز کنٹرول اینڈ ریسرچ (آئی ای ڈی سی آر) کے مطابق، اس سال اب تک باریسال سے تقریباً 7,500 ڈینگی کیسز میں سے نصف رپورٹ ہوئے ہیں۔ باریسال میں پانچ افراد ڈینگی کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں اب تک 31 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ تعداد کم ہے، جب ڈینگی کے مہلک پھیلاؤ سے 1,700 سے زائد افراد ہلاک اور دو لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔
باریسال کے برگنا ضلع کے سرکاری اسپتال میں بھی صورتحال سنگین ہے۔ 250 بستروں والے اسپتال میں 200 سے زائد ڈینگی مریض زیر علاج ہیں۔ باریسال کے ہیلتھ چیف شیمول کرشنا مونڈل نے کہا، ’’ہمیں بستر کم پڑ گئے ہیں اور کئی مریضوں کا علاج فرش پر کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
جہانگیر نگر یونیورسٹی کے بیماریوں کے ماہر کبیرالبشیر نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی قلت ایک بڑی وجہ ہے۔ ان کے مطابق لوگ بارش کا پانی برتنوں میں جمع کرتے ہیں، جو مچھروں کی افزائش کے لیے موزوں جگہ بن جاتا ہے۔ ’’پانی کی تقسیم کا نظام تقریباً ناپید ہے، جو صورت حال کو مزید خراب کرتا ہے۔‘‘























