Report Sabih Salik
چین کے شہر رونگ ژانگ — جو تین دریاؤں کے سنگم پر آباد ہے اور جس کی آبادی تقریباً تین لاکھ ہے — میں رواں ہفتے کے آغاز میں شدید بارشوں نے تباہی مچا دی۔ ریکارڈ موسلا دھار بارش کے باعث پورا شہر زیرِ آب آ گیا، جس کے نتیجے میں چھ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 80 ہزار سے زیادہ لوگوں کو اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنا پڑی۔
یہ بارش محض 72 گھنٹوں میں اتنی ہوئی کہ اس کی مقدار جون کے پورے مہینے کی اوسط بارش سے دو گنا زیادہ رہی۔
ہفتے کے دن حکام نے رونگ ژانگ میں ممکنہ نئے سیلابی خطرے کے پیش نظر ہنگامی اقدامات کا لیول بلند ترین درجے تک کر دیا ہے۔ چین کو ہزاروں برسوں سے گرمیوں میں آنے والے سیلابوں کا سامنا رہا ہے، مگر اب ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کی شدت اور تسلسل پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے، جس سے ڈیموں کے ٹوٹنے جیسے سنگین خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
چینی وزارتِ آبی وسائل کی رپورٹ کے مطابق پچھلے دو دنوں میں جنوبی چین کے صوبے یونان، گوئی ژو، گوانگ ژی اور حائنان میں 13 بڑے دریا طوفانی کیفیت سے دوچار ہو گئے، جن کی سطحِ آب انتباہی حد سے اوپر چلی گئی ہے۔ یہ رپورٹ سرکاری چینل سی سی ٹی وی نے ہفتے کو نشر کی۔
چین کے مقامی و عالمی میڈیا کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتِ حال سے ملک بھر میں لگ بھگ ایک لاکھ 80 ہزار افراد متاثر ہوئے، جن میں سے 68 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ہزاروں مقامی امدادی کارکن راستے کھولنے، ملبہ صاف کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔
























