پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سندھ برانچ اور سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے اشتراک سے **ورلڈ انوائرنمنٹ ڈے** کا سیمینار منعقد کیا گیا۔

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سندھ برانچ اور سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے اشتراک سے **ورلڈ انوائرنمنٹ ڈے** کا سیمینار منعقد کیا گیا۔
** ڈاکٹر حنا شہناز، صدر شعبہ ماحولیاتی سائنس، ایس ایم آئی یو سیمینار میں تقریر کر رہی ہیں۔

**معزز وائس چانسلر، محترم مہمانان، عزیر فیکلٹی ممبران، پیارے طلباء اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے عظیم شراکت داروں،**

السلام علیکم اور آپ سب کو صبح بخیر!

آج کے عالمی یوم ماحولیات کے اس تقریب میں آپ سب کا ایس ایم آئی یو میں خوش آمدید کہنا میرے لیے باعث فخر اور مسرت ہے۔ ہم پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، سندھ برانچ کے اشتراک سے یہ پروگرام منعقد کر رہے ہیں، جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ اور معاشرتی بیداری کو فروغ دینا ہے۔

عالمی یوم ماحولیات ہمیں ہر سال ایک موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی زمین پر اپنے اثرات کا جائزہ لیں اور اسے بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ اس سال کا موضوع (*پلاسٹک کی آلودگی*) ہمارے دور کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔

آج پلاسٹک ہمارے دریاؤں، سمندروں، خوراک اور یہاں تک کہ ہوا میں بھی موجود ہے۔ اندازہ ہے کہ ہر منٹ سمندر میں ایک ٹرک کے برابر پلاسٹک پھینکا جاتا ہے۔ پلاسٹک نے ہماری زندگیوں کو آسان ضرور بنایا، لیکن اس کا بے دریغ استعمال ایک ماحولیاتی تباہی بن چکا ہے۔ مسئلہ پلاسٹک کا نہیں، بلکہ ہمارے استعمال اور لاپروائی کا ہے۔

ایس ایم آئی یو کا ماننا ہے کہ صرف آگاہی کافی نہیں—حقیقی تبدیلی علم، عمل اور عزم سے آتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ساتھ مل کر *”کلائمیٹ ایڈووکیسی اینڈ کوآرڈینیشن فار ریزیلیئنٹ ایکشن (CACRA)”* کے تحت یہ تقریب منعقد کی ہے۔ ہم ایسے مقررین اور سرگرم کارکنان کو مدعو کرنے پر شکر گزار ہیں جو پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے تجربات اور تجاویز ہمیں پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانے اور ایک صحت مند ماحول کی تعمیر میں مدد کریں گی۔

آج کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر چھوٹا بڑا اقدام اہم ہے—چاہے وہ سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا ہو، صفائی مہم میں حصہ لینا ہو یا صرف آگاہی پھیلانا۔ ہر قدم ہمیں ایک پائیدار اور صاف مستقبل کے قریب لے جاتا ہے۔

آخر میں، آپ سب کا اس اہم مقصد کے لیے یہاں موجود ہونا ہمارے لیے اعزاز ہے۔ آئیے، مل کر صرف آج نہیں، بلکہ ہر دن ماحول کے تحفظ کے لیے کام کریں۔

**پاکستان زندہ باد!**

محمد وحید جنگ پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی VC S.M.I.U اور کنور وسیم صوبائی سیکرٹری پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سندھ برانچ کے ساتھ
senior Journalist Mohammad Waheed Jang along
With Prof. Dr. Mujeebuddin Sahrai Vc SIMU and Kanwar Waseem Provincial Secretary, Pakistan Red Crescent Society, Sindh Branch
================

جامعہ کراچی: پروفیسرڈاکٹر قدوسی کاظمی کی کتاب ”پاکستانی سمندری حیواناتی تنوع کی فہرست اور اقسام کی درجہ بندی کے وسائل“ کی تقریب رونمائی

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ کتابیں صرف چھپے ہوئے صفحات نہیں بلکہ علم کی کھڑکیاں ہیں جو دوسروں کے تجربات کو آنے والی نسلوں تک پہنچاتی ہیں، تاکہ وہ دنیا کو اس کی تمام تر تنوع کے ساتھ محسوس کر سکیں اور سیکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدوسی کاظمی کا کام علمی وابستگی کی اعلیٰ مثال ہے۔ یہ فہرست نہ صرف طلبہ اور ماہرین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہے بلکہ عام عوام کے لیے بھی ایک پیچیدہ حیاتیاتی موضوع کو قابلِ فہم بنانے کی قابلِ تحسین کوشش ہے۔

ڈاکٹرخالد عراقی نے پاکستان کی سمندری حیاتیاتی معلومات کو ایک منظم اور مربوط نظام میں یکجا کرنے کی کوشش کو سراہا اور اسے ماحولیاتی علوم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوجوان محققین، اساتذہ، اور طلبہ اس کتاب سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے، اور یہ ان کے تحقیقی کام کے لیے ایک کارآمد حوالہ ثابت ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلیہ علوم جامعہ کراچی کے کونسل روم میں شعبہ حیوانیات جامعہ کراچی کی سابق پروفیسروسابق ڈائریکٹر میرین ریفرنس کلیکشن اینڈ ریسورس سینٹر جامعہ کراچی کی کتاب بعنوان: ”پاکستانی سمندری حیواناتی تنوع کی فہرست اور اقسام کی درجہ بندی کے وسائل“ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ تحقیق کو محفوظ کرنا اور اس کو کتابی شکل دینا نئے ریسرچرز کے لئے ایک قیمتی اثاثے کی مانندہوتاہے،جس سے استفادہ کرکے وہ ملک ومعاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

اس موقع پرکتاب کی مصنفہ پروفیسرڈاکٹر قدوسی کاظمی نے کہا کہ پاکستان کا ساحلی علاقہ تقریباً 1046 کلومیٹر پر محیط ہے، جو بحیرہ عرب اور خلیج عمان کے ساتھ واقع ہے، اور اسے سندھ اور بلوچستان (مکران) کے خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس قدرتی دولت کے باوجود پاکستان کی سمندری حیات پر اب تک کوئی جامع اور مربوط کوشش نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں بعض سمندری اقسام کے حوالے سے کوئی حوالہ جاتی مواد یا شناخت کی تصدیق کے لیے کوئی مجاز اتھارٹی موجود نہیں تھی، اس لیے اس کتاب کو ایسی تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے جو سمندری اقسام کی شناخت میں مدد دے سکیں۔یہ تقریب صرف ایک کتاب کی رونمائی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی قدرتی دولت کو محفوظ کرنے اور سمجھنے کے لیے حیاتیاتی تحقیق میں ایک سنہری قدم تھا۔

رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے بتایا کہ پروفیسرڈاکٹر قدوسی کاظمی جامعہ کراچی کے شعبہ حیوانیات سے 41 سال وابستہ رہیں، ڈاکٹر قدوسی اب تک 14 کتابیں لکھ چکی ہیں جبکہ چارمونوگرافس اور قومی وبین الاقوامی جرائد میں 170 سے زائد آرٹیکل شائع ہوچکے ہیں۔مجھے امید ہے کہ ان کی اس اشاعت سے ریسرچز کو سیکھنے کے مزید مواقع میسرآئیں گے۔