
**پاکستان کے ای کامرس نوجوان: مایوس اور راستہ بدل رہے ہیں**
پاکستان کے نوجوان ای کامرس کاروباری سماجی میڈیا پلیٹ فارمز پر شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، آن لائن کاروبار کو فروغ دے کر ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ لیکن ان کی محنت کو پاکستانی حکومت اور اسٹیٹ بینک کی عدم توجہی اور حوصلہ افزائی کی کمی کا سامنا ہے۔
بہتر ادائیگی کے نظام اور سہولیات نہ ملنے پر مایوس ہو کر بہت سے نوجوان اب اپنے آن لائن کاروبار کو برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور امریکہ جیسے ممالک منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ ممالک پاکستانی ہنر مندوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں، انہیں پرکشش رجسٹریشن پیکیجز اور آسان ادائیگی کے نظام پیش کر رہے ہیں۔
**دماغی ہجرت: پاکستان کا نقصان، دوسروں کا فائدہ**

پاکستانی ای کامرس ہنر مندوں کی بیرون ملک منتقلی ایک خطرناک رجحان بن چکی ہے، جہاں بہت سے کاروباری پہلے ہی غیر ملکی کمپنیاں رجسٹر کروا چکے ہیں۔ یہ “برین ڈرین” نہ صرف پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ سے محروم کر رہی ہے بلکہ ملک کی معاشی ترقی کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو فوری طور پر ای کامرس کاروباریوں کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ بہتر ادائیگی کے نظام اور جدید سہولیات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے، ورنہ پاکستان اپنے ہونہار نوجوانوں اور بے پناہ مواقع سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
**ای کامرس کاروباریوں کی اہم مطالبات:**
– **آسان ادائیگی کے نظام:** بین الاقوامی لین دین کو تیز اور موثر بنانے کے لیے بہتر پے منٹ سسٹم۔
– **عالمی ادائیگی کے گیٹ وے تک رسائی:** پے پال، اسٹرائپ اور اسکوائر جیسے عالمی پے منٹ پلیٹ فارمز کی پاکستان میں اجازت۔
– **ٹرانزیکشن فیس میں کمی:** زرمبادلہ کی کمائی بڑھانے کے لیے بین الاقوامی لین دین پر چارجز میں تخفیف۔
– **حکومتی تعاون:** ای کامرس کو فروغ دینے کے لیے حوصلہ افزا پالیسیاں اور مراعات۔
**وقت عمل کا ہے!**
کیا پاکستانی حکومت اور اسٹیٹ بینک اپنے ای کامرس نوجوانوں کی مدد کے لیے آگے آئیں گے؟ یا وہ اپنے ہنر مندوں اور مواقع کو غیرملکی ممالک کے حوالے کرتے رہیں گے؟























