**بہتر بینکاری کے طریقوں کی ضرورت: آن لائن آمدنی بڑھانے کے لیے ماہرین اور نوجوانوں کی پکار**

**بہتر بینکاری کے طریقوں کی ضرورت: آن لائن آمدنی بڑھانے کے لیے ماہرین اور نوجوانوں کی پکار**

پاکستان کے نوجوان ای کامرس کی بڑھتی ہوئی صنعت سے فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن فرسودہ بینکاری کے طریقے ان کے لیے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ماہرین اور نوجوان کاروباری افراد نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آن لائن آمدنی کو آسان بنانے کے لیے بہتر ادائیگی کے نظام متعارف کروائیں۔

موجودہ بینکاری نظام پیچیدگیوں کا شکار ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ادائیگیاں وصول کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو زرمبادلہ کے بڑے مواقع سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

### **پاکستانی نوجوانوں کو درپیش مشکلات:**
– **ادائیگی کے محدود ذرائع:** پاکستانی نوجوانوں کے پاس چند ہی ادائیگی کے آپشنز دستیاب ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ادائیگیاں وصول کرنا مشکل ہوتا ہے۔**
– **ٹرانزیکشن فیس کی زیادتی:** بین الاقوامی لین دین پر بھاری فیسز آن لائن کاروبار کرنے والوں کی آمدنی کو کم کر دیتی ہیں۔**
– **پیچیدہ اور بوروکریٹک نظام:** بین الاقوامی ادائیگیاں وصول کرنے اور انہیں تبدیل کرنے کا عمل انتہائی طویل اور مشکل ہے، جس میں متعدد مراحل اور منظوریاں درکار ہوتی ہیں۔**

### **ماہرین کی تجاویز:**
– **نئے ادائیگی گیٹ وے کی شمولیت:** ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت کو PayPal، Stripe اور Square جیسے ادائیگی کے پلیٹ فارمز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔**
– **ادائیگی کے طریقوں کو آسان بنانا:** ادائیگی کے مراحل کو کم کرکے اور نظام کو سادہ بنایا جائے تاکہ بین الاقوامی ادائیگیاں تیزی سے وصول کی جا سکیں۔**
– **ٹرانزیکشن فیس میں کمی:** اگر لین دین کی فیسز کم کر دی جائیں تو آن لائن کاروبار کرنے والوں کی آمدنی بڑھے گی اور وہ زیادہ زرمبادلہ ملک میں لانے کے لیے راغب ہوں گے۔**

ان مسائل کو حل کرکے اور بہتر ادائیگی کے نظام کو متعارف کرا کے پاکستان اپنی ای کامرس صنعت کی مکمل صلاحیت کو اجاگر کر سکتا ہے اور زرمبادلہ کے مزید مواقع حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کے نوجوان ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک انہیں ضروری سہولیات فراہم کریں۔