**دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میوزیم بند، سیاحت کے بے تحاشہ بوجھ نے عملے کو احتجاج پر مجبور کر دیا**

**دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میوزیم بند، سیاحت کے بے تحاشہ بوجھ نے عملے کو احتجاج پر مجبور کر دیا**

**پیرس:** دنیا کے سب سے مشہور میوزیم **”لوور”** نے اچانک اپنے دروازے بند کر دیے ہیں، جس کی وجہ عملے کا **”ماس ٹورزم” (بڑے پیمانے پر سیاحت)** اور کام کی ناقص حالتوں کے خلاف احتجاج ہے۔ پیر، 16 جون 2025 کو ہونے والی یہ ہڑتال غیرمتوقع تھی، جس کی وجہ سے ہزاروں سیاح میوزیم کے شیشے کے اہم ہرم کے باہر کھڑے رہ گئے۔

**عملے کا احتجاج:** گیلری ایٹینڈنٹس، ٹکٹ اہلکاروں اور سیکورٹی اسٹاف نے اس بات پر احتجاج کیا کہ میوزیم میں **انتہائی بھیڑ، عملے کی کمی اور ناقابلِ برداشت کام کے حالات** ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ **لوور کی بنیادی ڈھانچہ ماس ٹورزم کے دباؤ کے نیچے دب کر رہ گیا ہے**، جہاں سیاحوں کی تعداد میوزیم کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔

**سیاحوں کی بھرمار:** گزشتہ سال لوور میوزیم نے **8.7 ملین سیاحوں** کو رجسٹر کیا، جو اس کی اصل گنجائش سے **دگنا** ہے۔ اگرچہ روزانہ **30,000 سیاحوں کی حد** مقرر ہے، لیکن عملے کے مطابق **کام کرنا ایک آزمائش بن چکا ہے**— آرام کے لیے جگہیں کم، باتھ رومز کی کمی اور گرمیوں میں ہرم کے اثر سے درجہ حرارت اور بڑھ جاتا ہے۔

**صدر میکخواں کا منصوبہ:** یہ ہڑتال اس وقت ہوئی ہے جب صدر **ایمانویل میکخواں** نے لوور کو بچانے کے لیے **10 سالہ ری نوویشن پلان** کا اعلان کیا تھا۔ لیکن عملہ کا کہنا ہے کہ **”10 سال انتظار نہیں کیا جا سکتا”**— انہیں فوری اقدامات چاہیں۔

**سیاحت پر اثر:** لوور کا بند ہونا نہ صرف **ثقافتی نقصان** ہے بلکہ پیرس کی معیشت کے لیے بھی ایک دھچکا ہے۔ اس احتجاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ **پائیدار سیاحت کے طریقوں** کی ضرورت ہے اور **ٹورزم انڈسٹری میں کام کرنے والوں کے مسائل** پر توجہ دینا ضروری ہے۔

**مختصر طور پر:** میوزیم **بدھ تک بند** رہے گا، تاہم کچھ عملہ **محدود نمائش** کھولنے پر رضامند ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا انتظامیہ عملے کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتی ہے یا نہیں۔