سندھ حکومت نے ایک ایم پی اے کو 7 کروڑ روپے دیے…. یہ کیسا لاڈلا ایم پی اے ہے؟

سندھ حکومت نے ایک ایم پی اے کو 7 کروڑ روپے دیے…. یہ کیسا لاڈلا ایم پی اے ہے؟

سندھ حکومت نے ایک ایم پی اے کو 7 کروڑ روپے دیے…. یہ کیسا لاڈلا ایم پی اے ہے؟


========================

وزیراعظم کا چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس
وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اس سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر فیصلہ کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے بھی چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہیں بڑھانے سے متعلق سوال پوچھا گیا تھا۔

تنخواہیں دو لاکھ پانچ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے21 لاکھ روپے ماہانہ کرنے پر جیو نیوز نے گزشتہ روز وزیر خزانہ سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تنخواہ 9 سال سے نہیں بڑھی تھی اس لیے اتنی بڑھائی گئی۔
==========================

سپریم کورٹ نے ریاضی ماہر اسسٹنٹ پروفیسر سے ریاضی مضمون واپس لے کر انجینئرنگ کے مضامین پڑھانے کا ٹاسک دینے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے عائد جرمانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ریاضی مضمون واپس لے کر انجینئرنگ کے مضامین پڑھانے کا ٹاسک دینے سے متعلق قائد اعظم یونیورسٹی نوابشاہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اصغر علی کی سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالت کا اسسٹنٹ پروفیسر سے مکالمہ میں کہا کہ استدعا سے تو لگتا ہے یونیورسٹی بند کرانا چاہتے ہیں اگر یونیورسٹی بند ہوگئی تو آپ کہاں جائیں گے؟ اسسٹنٹ پروفیسر نے کہا کہ میں ریاضی پڑھانے کا ماہر استاد ہوں، انتظامیہ نے مرکزی مضمون واپس لے کر انجینئرنگ کے مضامین پڑھانے کا ٹاسک دیدیا۔ انتظامیہ کے فیصلے کیخلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو جرمانہ عائد کردیا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ جرمانہ کا فیصلہ ہم کالعدم قرار دے دیتے ہیں مضمون تبدیل کرنے کا فیصلہ تو یونیورسٹی انتظامیہ نے واپس لے لیا ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسر نے کہا کہ سننے کا موقع دیں تو حقائق سے عدالت کو آگاہ کرسکتا ہوں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ کو ڈر ہے مستقبل میں پھر مضمون تبدیل کردیا جائے گا؟ اسسٹنٹ پروفیسر نے کہا کہ اور بھی مسائل ہیں۔ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے کہ آپ اسطرح نہ کریں مضمون فیصلہ واپس لے لیا گیا تو آپ بچوں کوپڑھانے پر توجہ دیں۔ اس طرح تو آپ کورٹ برڈ بن جائیں گے۔ آپ نے کتنا پڑھا ہوا ہے؟ اسسٹنٹ پروفیسر نے کہا کہ میں ایم ایس سی میتھ اور پی ایچ ڈی فرانس سے کررکھا ہے۔ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے کہ یہی تو دکھ ہے ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر نہیں ہے۔ عدالت نے اسسٹنٹ پروفیسر اصغر علی پر سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے عائد جرمانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف اسسٹنٹ پروفیسر کی دوسری درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی ۔