
“کراچی میں فٹ پاتھ غائب! شہریوں کے لیے چلنا مشکل، کمشنر، ڈی سیز اور اے سیز کہاں ہیں؟”
رپورٹ:
کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود، بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں فٹ پاتھ یا تو غائب ہیں یا پھر دکانداروں اور قبضہ گروپوں نے ان پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ شہریوں کو سڑکوں پر چلنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے بلکہ ٹریفک کے بہاؤ میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔

کمشنر، ڈی سیز اور اے سیز کا کردار:
کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنرز (ڈی سیز) اور اسسٹنٹ کمشنرز (اے سیز) کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناجائز قبضوں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ عوامی سلامتی اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، کمشنر کراچی نے اینٹی انکروچمنٹ مہمات کا آغاز کیا ہے اور افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ فٹ پاتھز اور دیگر عوامی جگہوں سے ناجائز قبضے ہٹائے جائیں۔

مسائل کی تفصیل:
دکانداروں اور قبضہ گروپوں نے فٹ پاتھز پر قبضہ کر کے انہیں چلنے کے قابل نہیں چھوڑا۔
کئی جگہوں پر فٹ پاتھز کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
معذور افراد، بزرگ اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد کے لیے فٹ پاتھز پر چلنا ناممکن ہو چکا ہے۔
حکومتی کوششیں:
اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیوز کا اجراء۔
شہری انتظامیہ، کے ایم سی (کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن)، ٹی ایم سیز (ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز) اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں۔
دکانداروں کو انتباہات جاری کرنا اور قانونی کارروائی۔
تجاویز اور حل:
مسلسل مانیٹرنگ: اینٹی انکروچمنٹ مہمات کو مستقل بنیادوں پر چلایا جائے، نہ کہ صرف کبھی کبھار۔
عوامی بیداری مہم: شہریوں کو فٹ پاتھز کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔
خصوصی افراد کے لیے اقدامات:
فٹ پاتھز کو وہیل چیئر فرینڈلی بنایا جائے۔
ریمپس اور ہموار راستے تعمیر کیے جائیں۔
سخت قوانین کا نفاذ: قبضہ گروپوں اور دکانداروں کے خلاف بھاری جرمانے اور سزائیں دی جائیں۔
بہتر منصوبہ بندی: شہری منصوبہ سازوں کو چاہیے کہ وہ فٹ پاتھز کو وسیع اور محفوظ بنانے پر توجہ دیں۔
کیا خصوصی افراد کراچی کے فٹ پاتھز پر وہیل چیئر چلا سکتے ہیں؟
بدقسمتی سے، کراچی کے بیشتر فٹ پاتھز یا تو ٹوٹے ہوئے ہیں، ان پر قبضہ ہے، یا وہ اتنے تنگ اور غیر ہموار ہیں کہ وہیل چیئر کے استعمال کے قابل نہیں۔ معذور افراد کو اکثر سڑکوں پر چلنا پڑتا ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شہری انتظامیہ خصوصی افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فٹ پاتھز کی تعمیر نو کرے۔
آخری بات:
کراچی کو ایک پُرامن اور خوشحال شہر بنانے کے لیے فٹ پاتھز جیسی بنیادی سہولیات کی بحالی ناگزیر ہے۔ کمشنر، ڈی سیز اور اے سیز کو چاہیے کہ وہ اپنے اے سی آفسز سے باہر نکل کر عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کریں۔























