
پریس ریلیز
ڈپٹی کمشنر شہید بینظیر آباد عبدالصمد نظامانی سے ملائیشین وفد کی ملاقات
نوابشاہ: ڈپٹی کمشنر شہید بینظیر آباد عبدالصمد نظامانی نے نوابشاہ کے دورے پر آئے ہوئے ملائیشیا کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت محمد شاہ، سی ای او التزام ریلیف سوسائٹی ملائیشیا کر رہے تھے۔ملاقات کے دوران محمد شاہ نے نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت ڈپٹی کمشنر عبدالصمد نظامانی کو ایک یادگاری تحفہ پیش کیا۔ انہوں نے نیشنل ڈس ایبلیٹی اینڈ ڈیولپمنٹ فورم (NDF) پاکستان اور التزام ریلیف سوسائٹی کے اشتراک سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں، خصوصاً شہید بینظیر آباد میں جاری ریلیف اور بحالی کے کاموں پر روشنی ڈالی۔
ڈپٹی کمشنر نظامانی نے NDF پاکستان اور التزام ریلیف سوسائٹی کی مشترکہ انسانی خدمات کو سراہتے ہوئے سیلاب متاثرین، بالخصوص معذور افراد جیسے کمزور طبقات کے لیے کی گئی امداد پر گہری تشکر کا اظہار کیا۔
ملاقات کا اختتام اس باہمی عزم کے ساتھ ہوا کہ متاثرہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
اس موقع پر شہرول (کنٹری منیجر پاکستان، التزام ریلیف سوسائٹی ملائیشیا)، نوریتا حسن، طارق حسین چنڑ (پروگرام منیجر NDF)، اور سائرہ عابد لاشاری (ڈائریکٹر NDF پاکستان) و دیگر بھی موجود تھے۔
=========================
سپریم کورٹ میں کراچی ایئرپورٹ کے اطراف میں موبائل ٹاور کی تنصیب کیخلاف اپیل مسترد کردی۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو کراچی ایئرپورٹ کے اطراف میں موبائل ٹاور کی تنصیب کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔عدالت نے درخواستگزار پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایوی ایشن اور دیگر اتھارٹیز کے مطابق موبائل ٹاور بین الاقوامی ایوی ایشن معیار کے مطابق بنے ہیں۔ ذمہ داروں کے مشاہدے کے مطابق ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے جہازوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ جب اتھارٹیز کہہ رہی ہیں کہ موبائل ٹاور کی تنصیب سے کوئی خطرہ نہیں تو سپریم کورٹ کیسے مداخلت کرسکتی ہے۔ درخواستگزار محمد اسلم خان ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ کچھ عرصہ پہلے پی آئی اے کا جہاز رہائشی آبادی پر گر گیا تھا جس میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ عدالت نے ریمارلس میں کہا کہ فلائٹ پی کے 8303 کو حادثہ آبادی کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس گھر سے جہاز ٹکرایا وہ اونچا نہیں تھا۔ روزانہ جہازوں کی آمدورفت ہوتی ہے، ایوی ایشن اتھارٹی کو کوئی مسئلہ نہیں۔ اتھارٹی کو کوئی مسئلہ نہیں تو آپ کو کیوں ہورہا ہے؟ درخواستگزار نے موقف اپنایا کہ ایوی ایشن اتھارٹی نے سندھ ہائیکورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں فراڈ کیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایوی ایشن اتھارٹی نے کیا فراڈ کیا تھا؟ کوئی منطقی یا تکنیکی بات کریں۔ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایئرپورٹ کے اطراف ساری آبادی کو بم سے اڑانے کے احکامات دیدیں؟ پھر تو یہ ہوگا کہ جہاں جہاز جائے گا وہاں آبادی ختم کردیں گے۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس میں کہا کہ اگر مستقبل میں کوئی حادثہ ہوا تو ساری ذمہ داری ان اتھارٹیز کی ہوگی جو اس وقت یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹاورز سے جہازوں کو کوئی مسئلہ نہیں۔ پی ٹی اے اور ایوی ایشن اتھارٹی کے وکلا نے جواب کے مطابق ماڈل کالونی میں لگے موبائل ٹاور قانون اور ایوی ایشن معیار کے مطابق ہیں۔ عدالت نے موبائل ٹاور کی تنصیب کیخلاف اپیل مسترد کردی۔























