
دنیا بھر کے تعلیمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ دور میں تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات اور ٹیکنالوجی کے تیز رفتار ارتقاء کے باعث روایتی امتحانی نظام اپنی اہمیت کھو رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پرانے طریقہ کار اب طلباء کی صلاحیتوں کو پرکھنے اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اس لیے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
کئی ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ روایتی امتحانی نظام کو مرحلہ وار ختم کر دینا چاہیے۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ نظام صرف رٹے بازی کو فروغ دیتا ہے، جبکہ تخلیقی سوچ، تنقیدی تجزیہ اور عملی مہارتیں پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ جدید دور میں انہی صلاحیتوں کی زیادہ ضرورت ہے، نہ کہ صرف یادداشت کے امتحانات کی۔
تعلیم کے شعبے میں ہونے والی جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ روایتی امتحانات طلباء کی حقیقی قابلیت کا درست اندازہ نہیں لگا پاتے۔ زیادہ تر معاملات میں یہ نظام صرف چند مخصوص موضوعات پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جبکہ دیگر اہم مہارتیں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ اس لیے متبادل طریقہ کار اپنانے کی تجویز دی جاتی ہے۔
کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ روایتی امتحانات طلباء کے اندر خوف اور دباؤ کا ماحول پیدا کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ تعلیم سے دلچسپی بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے بجائے مسلسل تشخیص (Continous Assessment) اور عملی منصوبوں کے ذریعے طلباء کی صلاحیتوں کو جانچنا زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پر کئی ترقی یافتہ ممالک نے پہلے ہی روایتی امتحانی نظام میں تبدیلیاں کرنا شروع کر دی ہیں۔ وہاں پر پرکھنے کے نئے طریقے متعارف کروائے جا رہے ہیں، جن میں گروپ ڈسکشن، پراجیکٹ بیسڈ لرننگ اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ یہ طریقے طلباء کو زیادہ متحرک اور تخلیقی بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلیمی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ روایتی امتحانی نظام کی جگہ ایسے طریقے اپنائے جائیں جو نہ صرف طلباء کی علمی صلاحیتوں کو اجاگر کریں بلکہ انہیں عملی زندگی کے لیے بھی بہتر طور پر تیار کریں۔ اس کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امتحانی نظام میں تبدیلی صرف نصاب تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی وسائل کو بھی بہتر بنانا ہو گا۔ اس کے بغیر کوئی بھی نیا نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس لیے حکومت اور تعلیمی اداروں کو مل کر جامع حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ روایتی امتحانی نظام کی جگہ جدید اور موثر طریقہ کار اپنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عالمی رجحانات سے سبق لیتے ہوئے اپنے تعلیمی ڈھانچے کو ایسا بنائیں جو نئی نسل کو مستقبل کی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکے۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جو ہمارے تعلیمی نظام کو حقیقی معنوں میں بہتر بنا سکتی ہے۔























