
مِنیٰ: تقریباً 524 معذور عازمین حج مقدس مقامات پر پہنچے اور وزارت حج و عمرہ کی زیرقیادت پانچویں سال جاری قومی اقدام کے تحت اپنے روحانی سفر کا آغاز کیا۔ معذور افراد کے لیے قومی حج اقدام اس مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا ہے کہ معذور عازمین وقار اور آسان سہولت کے ساتھ مناسک حج ادا کر سکیں۔ اس پروگرام کے تحت انہیں خصوصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جن میں قابل رسائی ٹرانسپورٹ، معذوروں کے لیے موزوں رہائش اور 24 گھنٹے معاونت شامل ہیں۔
یہ اقدام سعودی عرب کے ویژن 2030 اصلاحاتی منصوبے سے ہم آہنگ ہے، جو شمولیت اور ہر شہری و رہائشی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ معذور عازمین کی رسائی کو وسعت دے کر اور ان کے لیے سہولیات کو بہتر بنا کر، سعودی مملکت برابری پر مبنی شرکت کے عزم کا اعادہ کر رہی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے مئی 2024 میں جاری کردہ “معذوری کے اعداد و شمار کی اشاعت 2023″ کے مطابق، سعودی عرب کی آبادی کا تقریباً 1.8 فیصد کسی نہ کسی شکل میں معذوری کا شکار ہے، جس میں جسمانی، سماعت و بصارت سے محرومی اور ابلاغ کی معذوریاں شامل ہیں۔
کراچی سے این ڈی ایف پاکستان کے صدر، معروف معذور رہنما عابد لاشاری نے بتایا کہ معذور افراد وقار اور آسانی کے ساتھ مناسک ادا کر رہے ہیں اور انہوں نے ہر مقام پر جامع شمولیت کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے inclusive پاکستانی حج کیمپ کے ساتھ وقار سے اپنا پہلا حج مکمل کیا۔عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت حج و عمرہ کے سوشل ریسپانسبلٹی و رضاکارانہ امور کے سربراہ عبداللہ عبدالمحسن الحربی نے بتایا کہ یہ اقدام اب مملکت کے تمام 13 علاقوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بنیادی طور پر معذور افراد کو تمام مقدس مقامات کی زیارت اور حج کی ادائیگی کو آسان و باوقار بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔”انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت مملکت بھر سے معذور مرد و خواتین کو طے شدہ معیار اور اقسام کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔ہم فخر کے ساتھ ان تمام عازمین حج کی میزبانی کر رہے ہیں جنہیں بصری، جسمانی یا اعضاء کی معذوریاں لاحق ہیں۔ ان کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے گئے ہیں، جن میں وزارت صحت، پبلک سیکیورٹی اور وزارت افرادی قوت و سماجی ترقی جیسے اداروں کے ساتھ تعاون سے تیار کردہ جامع سفری منصوبہ شامل ہے۔” الحربی نے کہا کہ پانچ سال کے دوران اس پروگرام نے معذور افراد کی تمام ممکنہ ضروریات کی شناخت کی ہے اور ان کے لیے موزوں معاون میکانزم تیار کیے گئے ہیں، جن میں مکمل قابل رسائی حل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت کی یہ خواہش ہے کہ یہ پروگرام معذوروں کے لیے پیش کی جانے والی تمام خدمات کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکے۔ الحربی نے عازمین پر اس اقدام کے روحانی اور جذباتی اثرات کو بھی اجاگر کیا، خاص طور پر اس موقع کو کہ وہ اسلام کے پانچویں رکن کو پورا کر سکے۔ سعودی مملکت کی دانشمندانہ قیادت کی سرپرستی میں تمام ضروری وسائل و سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کی جا سکے، قطع نظر ان کے پس منظر کا ہے۔ معذوروں جیسے اہم طبقے کو مکمل سہولیات دی گئی ہیں تاکہ وہ مناسک حج ادا کر سکیں۔” الحربی نے یہ بھی بتایا کہ آغاز سے اب تک یہ پروگرام دونوں جنسوں کے تقریباً 2,000 مستفیدین کو خدمات فراہم کر چکا ہے۔ اس سال کے شرکاء میں عبداللہ سیف القحطانی بھی شامل ہیں، جنہوں نے کہا کہ انہیں نقل و حرکت میں معذوری ہے، مگر ان کا حج غیر معمولی طور پر آسان رہا۔میں نے پروگرام میں اندراج کرایا اور مجھے شامل کر لیا گیا۔ میں پہلے بھی حج کر چکا ہوں، مگر اس سال کا انتظام بہت اعلیٰ تھا، اور رمی کا عمل بہت آسان ہو گیا تھا۔” ایک اور شریک، عبدالعزیز العنزی، جنہیں بھی جسمانی معذوری ہے، نے بتایا کہ انہوں نے اس اقدام کے بارے میں حفر الباطن کی مقامی معذوری کی سماجی تنظیم سے جانا۔ میں نے درخواست دی، اور فوری جواب ملا۔ ان کی معاونت شاندار تھی۔ میں خود حفر الباطن سے نکلا اور کسی کی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انہوں نے ہر چیز فراہم کی، طبی امداد سے لے کر کھانے تک سب ک سب معلومات شامل تھیں۔ میں نے حج کے لیے ایک ریال بھی ادا نہیں کیا۔ میں صرف اپنے کپڑے اور وہیل چیئر لے کر نکلا۔ خدمات شاندار ہیں۔ میں شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔























