
سندھ کی بیٹی، اب سفر کرے گی، فخر سے، آزادی سے
شرجیل انعام میمن کی سربراہی میں صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ ہوا ماس ٹرانزٹ حکومت سندھ کا ایک اور بڑا اقدام ۔
الیکٹرک پنک ای وی اسکوٹیز مفت تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو بہت خوش ائند ہے اور اس کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے اس اعلان کے ساتھ ہی حکومت سندھ کا یہ دعوی بھی ہے کہ وہ خدمات میں سب سے آگے ہے اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی سرگرم ہے اور سندھ کی بیٹی اب سفر کرے گی فخر سے ازادی سے یہ ایک اچھا نعرہ بھی ہے قابل تحسین اقدام بھی اور اس سے کافی اسانی بھی ہوگی سہولت ملے گی اور سفر میں بہتری آئے گی حکومت سندھ کے اس اسکیم کی تعریف کے ساتھ ساتھ اس سے فائدہ اٹھانے والی بیٹیوں کی حمایت اور مدد ضروری ہے خاص طور پر جب وہ پنک ای وی اس کورٹیز لے کر سڑکوں پر نکلیں تو ان کو تنگ نہ کیا جائے بلکہ ان کو سپورٹ کیا جائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اس سلسلے میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں خاص طور پر لڑکوں کو یہ سکھائیں کہ سڑکوں پر انے والی لڑکیوں کو تنگ مت کریں ان کو بھی ٹریفک اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے گاڑی چلانے کا حق ہے اور زندگی گزارنے کا حق ہے لہذا سڑکوں پر انے والی بچیوں کو اپنی بہن بیٹی کی طرح احترام اور عزت دیں اور ان کا خیال رکھیں اور کسی بھی مشکل میں ان کی مدد کریں اور ان کے لیے آہنی دیوار بنیں اور ان کو مکمل حمایت کا یقین دلائیں
حکومت سندھ کی جانب سے صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت “سندھ ماس ٹرانزٹ” کا آغاز ایک تاریخی اقدام ہے، جس کی سربراہی معروف ٹرانسپورٹ ماہر شرجیل انعام میمن کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف عوامی نقل و حمل کو جدید بنائے گا بلکہ خواتین کو محفوظ اور باعزت سفر کا موقع فراہم کرے گا۔
اس کے ساتھ ہی، حکومت سندھ نے مفت الیکٹرک پنک ای-وی اسکوٹیز تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو خواتین کی خودمختاری اور روزمرہ کی نقل و حمل کو آسان بنائے گا۔ یہ قدم ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے اور عوام بالخصوص خواتین کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
“سندھ کی بیٹی اب فخر سے سفر کرے گی” کا نعرہ محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ حکومت کی عوامی خدمت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی حکومت اور سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی مکمل طور پر سرگرم ہیں۔
تاہم، اس اقدام کی کامیابی کے لیے معاشرے کے ہر فرد کا تعاون ضروری ہے۔ خواتین کو جب بھی سڑکوں پر ای-وی اسکوٹیز پر نظر آئیں، انہیں تنگ کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں، خاص طور پر لڑکوں کو یہ تعلیم دیں کہ خواتین کو بھی مردوں کی طرح آزادی سے سفر کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سڑکوں پر آنے والی لڑکیوں کو اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی طرح عزت دیں، ان کی مدد کریں، اور ان کے لیے ایک محفوظ ماحول بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
حکومت سندھ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے، آئیے ہم سب مل کر سندھ کو ایک بہتر اور خواتین کے لیے پرامن صوبہ بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں!























