
بچ جانے والی خوش قسمت خدیجہ صدیقی
ثنا یوسف کے کیس کو دیکھ کر یہ کیس یاد آ گیا۔
ایک طالبہ، جسے پاکستان کی مصروف ترین سڑکوں میں سے ایک پر دن دہاڑے 23 بار چاقو کے وار کر کے زخمی کیا گیا تھا، نے ملک کے نظامِ عدل پر عورت دشمن ہونے کا الزام عائد کیا ہے، کیونکہ اُس کے حملہ آور کو قتل کی کوشش کے جرم میں سزا سنائے جانے کے باوجود گزشتہ ہفتے حیران کن طور پر بری کر دیا گیا۔
خدیجہ صدیقی دو سال قبل اُس وقت حملے کا نشانہ بنی تھیں جب وہ اپنی چھ سالہ بہن کو اسکول سے لینے گئی تھیں۔ اُن پر ساتھی طالب علم شاہ حسین نے چاقو سے کئی بار گلے اور پیٹ پر وار کیے۔ خدیجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بدلہ لینے کی نیت سے کیا گیا کیونکہ انہوں نے اُس کی محبت کو ٹھکرا دیا تھا۔ خدیجہ کی جان اُس وقت بچی جب اُن کا ڈرائیور آگے بڑھا اور حملہ آور کو اُن سے الگ کیا۔ حملہ آور کو قتل کی کوشش کے جرم میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جو کہ اس جرم کی کم سے کم سزا ہے۔
لیکن حیران کن طور پر، گزشتہ ہفتے ہائی کورٹ نے اُسے بری کر دیا۔ اُس کے وکیلوں کا دعویٰ تھا کہ خدیجہ ہی اُسے پسند کرتی تھیں، اور اُنہوں نے سترہ سال کی عمر میں لکھے گئے ایک خط کو بنیاد بنا کر کہا کہ وہ اس کیس کو “ہائی پروفائل” بنانا چاہتی تھیں۔
ایک ایسے ملک میں جہاں ہر سال اندازاً ایک ہزار سے زائد خواتین کو نام نہاد “غیرت کے نام” پر قتل کر دیا جاتا ہے، خدیجہ صدیقی کا مقدمہ ایک علامتی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ تاہم اُن کے حملہ آور کی رہائی کو بعض لوگ خواتین کے خلاف تشدد کو گویا قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ خدیجہ کے وکیل، حسان نیازی، نے اسے “متاثرہ خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بدترین مثال” قرار دیا۔
خدیجہ صدیقی نے کہا کہ خواتین کو ایک ایسے پدرشاہی نظام کا سامنا ہے جو انہیں جنسی زیادتی یا “غیرت” کے نام پر ہونے والے جرائم رپورٹ کرنے سے روکتا ہے، کیونکہ عدالتی نظام میں عورتوں کے خلاف بدنامی کا خوف موجود ہے، اور ان پر یہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ خود کو متاثرہ ثابت کریں۔
انہوں نے مزید کہا:
“میری جدوجہد تمام خواتین کے لیے ایک آزمائشی مقدمہ ہے جو عدالتوں سے انصاف مانگتی ہیں۔ ہمیں کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور جب نیت پر بات آتی ہے، تو مجرم کی بجائے عورت پر یہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی معصومیت ثابت کرے۔”
خدیجہ نے بتایا:
“جب عدالت نے مجھ سے پوچھا کہ [شاہ حسین] کا مقصد کیا تھا، تو دفاع نے میری کردار کشی کی کوشش کی، کہا کہ میں ایک بدکردار، بے اصول اور اخلاق سے گِری ہوئی عورت ہوں۔ عدالت میں یہ بھی جھوٹ بولا گیا کہ میرے دیگر لڑکوں سے ناجائز تعلقات تھے۔ اُن کی پوری دفاعی حکمتِ عملی میرے کردار کو مشکوک بنانے پر مبنی تھی۔”
خدیجہ صدیقی، جو ایک کاسموپولیٹن (جدید طرزِ زندگی رکھنے والے) مگر مذہبی اور ثقافتی طور پر قدامت پسند خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، نے کالج کے دوران شاہ حسین نامی لڑکے سے دوستی کی تھی، جو ایک بااثر وکیل کا بیٹا ہے۔ دونوں کے درمیان قربت بڑھی، لیکن خدیجہ نے رشتہ ختم کر دیا کیونکہ وہ اس کے جنونی اور قابو پانے والے رویے، اور فیس بک اکاؤنٹ ہیک کرنے جیسے اقدامات سے پریشان ہو گئیں۔
خدیجہ کہتی ہیں:
“جب ایک لڑکا تمام حدیں پار کر کے یہ کہتا ہے کہ ‘تم میری ملکیت ہو’ تو بس وہی لمحہ ہوتا ہے جب فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے رشتہ ختم کیا۔ اور یہی کافی ہونا چاہیے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بعد میں کیا ہوا یا اگر میں اس سے شادی بھی کر لیتی، پھر بھی اُسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی عورت پر اس طرح حملہ کرے۔”
اس رشتے کے ختم ہونے کے بعد خدیجہ کو مسلسل ہراسانی اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑا، جو بالآخر لاہور کی مرکزی مارکیٹ میں ایک خونی حملے پر منتج ہوا، جس میں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں چلی گئیں۔ اس واقعے پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، اور نامور شخصیات و سیاستدانوں نے کھل کر اظہار افسوس کیا۔ اقوام متحدہ کی خواتین کے لیے پاکستان میں نمائندہ، جمشید قاضی، نے کہا:
“خدیجہ کی انصاف کے لیے بے پناہ جدوجہد ایک غیرمعمولی مثال ہے، جو ان تمام رکاوٹوں کو اجاگر کرتی ہے جن کا سامنا خواتین کو عدالتی نظام میں کرنا پڑتا ہے — جن میں بدنامی اور صنفی تعصب شامل ہیں۔”
عوامی دباؤ اس قدر شدید تھا کہ خدیجہ کے حملہ آور کی رہائی کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا — ایک ایسا غیرمعمولی اقدام جس میں عدالت بغیر کسی باضابطہ شکایت کے خود مقدمہ دوبارہ کھول سکتی ہے۔ یہ عمل اتوار سے شروع ہونا تھا۔
خدیجہ کا کہنا تھا:
“سپریم کورٹ کا فیصلہ میرے لیے ہی نہیں بلکہ تمام خواتین کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ اس نے عوام، نوجوانوں اور سوشل میڈیا کی طاقت کو تسلیم کیا ہے، جن کی آواز عدالت تک پہنچی، اور عدالت نے سنی۔”
انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اُن کا کیس دیگر خواتین کو بھی انصاف کے لیے لڑنے کی ترغیب دے گا اور اس کے نتیجے میں قانونی اصلاحات ہوں گی تاکہ خواتین کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنایا جا سکے۔
خدیجہ نے کہا:
“مجھے بے شمار پیغامات ملے ہیں جن میں خواتین کہتی ہیں کہ ‘ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا’ — اس سے لوگوں کو حوصلہ ملتا ہے۔ دنیا بھر میں عورتوں کے لیے انصاف حاصل کرنا باعثِ بدنامی سمجھا جاتا ہے، صرف پاکستان میں نہیں۔ یہ کیس ثابت کرتا ہے کہ اگر کوئی ‘غیرت’ کے نام پر کسی کو زخمی یا قتل کرے گا تو اُسے چیلنج کیا جائے گا۔ بطور قانون کی طالبہ، میرا فرض ہے کہ ثابت کروں کہ عدالتی نظام صرف امیر اور بااثر لوگوں کے لیے نہیں ہے۔”
آخر میں خدیجہ نے کہا:
“دنیا بھر میں ہزاروں خواتین قتل کر دی جاتی ہیں۔ میں اُن چند خوش نصیبوں میں سے ہوں جو زندہ بچ گئیں، اس لیے مجھے یہ موقع دیا گیا ہے کہ میں تمام خواتین کے لیے ایک مثال بن سکوں۔”























