
ایک کہاوت ایک کہانی ______
” بہت قَصائیوں میں گائے مُردار ”
معنی : بہت صَلاح کاروں سے کام خراب ہوتا ہے ، جب مشورہ / رائے دینے والے بہت سارے ہوں اور کسی ایک بات پر متفق بھی نہ ہوں یعنی اپنی اپنی ہی کہیں تو کام خراب ہو جاتا ہے
——————–
تحریر : اطہر اقبال
——————–

کسی گھر اور مَحَلٌَے میں قربانی کے جانوروں کا آنا آس پاس کے علاقے کے لوگوں بالخصوص بچوں کے لیے بہت ہی خوشی کا باعث ہوتا ہے ، بچوں کا عید منانے کا اپنا ہی انداز ہے ، اپنی گلی محلے میں گائیں ،اونٹوں ، بکروں اور قربانی کے لیے لائے جانے والے دیگر جانوروں کو ایک ساتھ دیکھ کر اور مختلف مقامات پر لگائے گئے جھولوں ، کھانے پینے کی دکانوں ، اسٹالز پر جانا ، اونٹوں اور تانگوں کی سواری کرنا گویا ان بچوں کی عید کو دو چَند (زیادہ ، دُگنا) کر دیتا ہے، دوسری جانب گھر کی خواتین بڑوں اور بچوں کے لیے لذیذ پَکوان تیار کرتی ہیں جنھیں مزے مزے سے کھا کر ہم اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرتے ہیں –
عیدُ الاضحٰی (بَقرہ عید ، عیدِ قُربان) آنے میں اب صرف ایک دن ہی باقی بچا تھا ، دوسرے بہت سے بچوں کی طرح سلمان کی بھی یہ خواہش تھی کہ وہ جلد اَز جلد اپنے ابو کے ساتھ جا کر قربانی کے لیے گائے خرید کر لے آئے ، سلمان کی عمر ابھی صرف پندرہ سال تھی اور وہ صبح سے ہی اپنے ابٌو سے اس بات کی فرمائش کر رہا تھا کہ آج ہی گائے خریدنے چلیں –
” چلو ٹھیک ہے ، تم تیاری کر لو ، ہم شام میں مَویشی مَنڈی چلیں گے -” سلمان کے ابو نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا –
” ٹھیک ہے ابو ، میں تیاری کرتا ہوں آپ بھی تیار ہو جائیں -” یہ کہہ کر سلمان اپنی امی کے پاس چلا گیا جو سلمان کو اتنا زیادہ خوش دیکھ کر خود بھی اس سے زیادہ خوش نظر آ رہی تھیں سلمان کو تیار ہونے میں اس کی مدد کرنے لگیں –
دوپہر کی شدید گرمی کے بعد شام میں سلمان اور اس کے ابو مویشی منڈی پہنچ گئے جہاں بہت زیادہ رونق تھی ، بے شُمار لوگ آئے ہوئے تھے جب کہ اِن میں کئی لوگ ایسے بھی تھے جو جانوروں کی خریداری کے بجائے صرف تَفرِیحِ طَبَع (خود کو خوش کرنے کا عمل) کے لیے آئے ہوئے تھے ، بَقولِ شاعر
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
سلمان کے ابو نے چند گھنٹوں کی تلاش کے بعد بالآخر سلمان کی پسند کی ایک گائے خرید لی اور پھر مزید کوشش کے بعد وہ گائے کو گھر تک لانے کے لیے گاڑی بھی حاصل کرنے میں کام یاب ہو گئے –
سلمان اپنی گائے کی خوب آؤ بھگت کر رہا تھا کبھی اسے چارا کھلاتا تو کبھی جَلیبیاں اور مٹھائی ، گائے بھی خوب مزے مزے سے کھاتی اور آسمان کی طرف منہ کر کے شُکر ادا کرتی –
” ارے سلمان یہ تم نے گائے کے منہ پر بندھی رَسٌی کو اتنا زیادہ کھینچ کر اوپر کھڑکی سے کیوں باندھ دیا!!؟ اس طرح تو گائے نہ بیٹھ سکے گی اور نہ ہی کچھ کھا پی سکے گی -” سلمان کے ابو نے گائے کی رَسٌی اوپر کی جانب کھڑکی سے بندھی دیکھ کر حیرت سے پوچھا –
” ابو اس طرح باندھنے سے ہماری گائے زیادہ بڑی اور قَد میں اونچی لگے گی – ” سلمان نے معصومیت کے ساتھ گائے کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا –
” بہت بری بات ہے سلمان ، اس طرح کرنے سے تمھیں احساس بھی ہے کہ جانور کو کتنی تکلیف پہنچے گی اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ جانور کو تکلیف دی جائے یا اسے زیادہ بڑا اور اونچے قد کا ظاہر کرنے کے لیے منہ اوپر کی جانب اٹھا کر باندھ دیا جائے – ” اس کے ابو نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اور پھر گائے کی رسی کھول کر اسے زمین پر لگے کُنڈے میں باندھ دیا ، رسی کا نیچے باندھنا تھا کہ گائے کے تو جیسے جان میں جان ہی آگئی اور وہ فوراً ہی بیٹھ گئی –
” سلمان ، تم نے دیکھا کہ اوپر کی جانب رسی باندھنے سے گائے کتنی تکلیف میں تھی ، جانور کی رسی زمین پر لگے کُنڈے کی مدد سے باندھنی چاہیے تاکہ اسے اُٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے میں آسانی ہو نہ کہ جانور کا منہ اوپر کی جانب کر کے رسی اس نیت سے باندھی جائے کہ ہمارا جانور سارے محلے میں سب سے بڑا اور قَد میں اونچا لگے ، اس طرح کا دھوکا ، دِکھاوا اور نَمود و نمائش تو کسی بھی طرح نہیں کرنا چاہیے اور پھر یہ تو قربانی کا معاملہ ہے جو خالصتاّ اللہ تعالٰیٰ کی رَضا کے لیے کی جاتی ہے – ” سلمان کے ابو نے اس بار سلمان کو سمجھاتے ہوئے ذرا سختی کے ساتھ کہا –
” ٹھیک ہے ابٌو ، میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے مگر ابٌو یہ بتائیے کہ کیا ہم اپنے گھر کے دروازے کے باہَر گائے کے لیے ایک بڑی سی باڑ (باڑھ ، رُکاوٹ ، چار دیواری) بنوا لیں تاکہ لوگ گائے کو تنگ نہ کریں – ” سلمان نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے ابٌو سے پوچھا –
” میرا خیال ہے یہ مناسب نہیں ہوگا کیوں کہ باڑ لگانے سے گلی کا راستہ بند ہو جائے گا اور آنے جانے والوں کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا جب کہ ہمیں اپنے کسی بھی طرزِ عمل سے لوگوں کی پریشانی کا سبب نہیں بننا چاہیے بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہییں – ” سلمان کے ابو نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا –
” ابو چھوٹا سا ہی بنوا لیں ، ہم اپنی گلی سے گزرنے والوں کے لیے بھی جگہ رکھیں گے – ” سلمان نے بڑے لاڈ کے ساتھ کہا –
” چلو ٹھیک ہے مگر اس بات کا خیال کرنا گلی بند نہ ہونے پائے اور آنے جانے والوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے -” سلمان کے ابو نے کہا جس پر سلمان نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کر دی –
چاند رات آتے ہی سلمان کے ابو کو قَسائی (قصائی) کی فکر لگ گئی کیوں کہ باوجود کوشش کے وہ اب تک کسی بھی قصائی سے حَتمی بات نہیں کر پائے تھے ، وہ جس قصائی سے بھی بات کرتے وہ اپنے کام کی اُجرت اتنی زیادہ مانگتا کہ وہ ہامی بھرنے کی بجائے انکار کرنا ہی مناسب سمجھتے ، بعض قصائیوں کی بات اور ان کی جانب سے مانگی گئی اُجرت سُن کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جانور کے ساتھ ساتھ جانور خریدنے والے کو بھی حلال کرنے کا پورا پورا ارادہ رکھتے ہیں –
” ارے بھائی صاحب ، کیوں پریشان بیٹھے ہیں ، آج تو چاند رات ہے اور آپ ہیں کہ اُداس سے نظر آرہے ہیں -” ایک پڑوسی نے سلمان کے ابو کو گھر کے باہَر اپنی گائے کے پاس اُداس بیٹھے دیکھ کر پوچھا –
” بھائی صاحب وہی پریشانی ہے جو قصائی کے نہ ملنے پر ہوتی ہے ، میں نے جس قصائی سے بھی بات کی وہ بہت زیادہ پیسے مانگ رہا تھا بس آپ یہ سمجھ لیں کہ جتنے پیسے قصائی مانگ رہا تھا ان پیسوں میں ایک اچھا بھلا چھوٹا بکرا بھی آ جاتا -” سلمان کے ابو نے گائے کو چارا کھلاتے ہوئے کہا –
” ارے آپ فکر نہ کریں ، محلے کے لوگ آخر کب کام آئیں گے ، میں کچھ لوگوں کو کہہ دوں گا کہ وہ گائے ذَبح کرنے میں ہماری مدد کریں ، آپ یوں سمجھ لیں کہ آپ کا کام ہو گیا ، قصائی کے لیے بالکل بھی پریشان نہ ہوں – ” پڑوسی نے سلمان کے ابو کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا –
” کیا آپ اور آپ کے ساتھ آنے والے لوگ جانور کو ذَبح کرنے کا طریقہ جانتے ہیں؟ کیوں کہ یہ کام مجھے تو بالکل بھی نہیں آتا ، آپ ذرا سوچ لیں کہیں کام خراب نہ ہو جائے – ” سلمان کے ابو نے پڑوسی سے اپنے خَدشَے (فکر ، اندیشہ) کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا –
” ارے آپ کیوں فکر کر رہے ہیں ، آپ بس ایک طرف کھڑے ہو جائیے گا اور پھر ہمارا کام دیکھیے گا – ” پڑوسی نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا اور سلمان کے ابو ان پڑوسی کا اعتماد بھرا لہجہ دیکھ کر خود بھی مطمئن ہو گئے –
اگلے دن عید تھی سلمان اپنے ابو کے ساتھ عید کی نماز پڑھ کر آیا اور آتے ہی اپنے ابو کو کہہ دیا کہ آپ ان پڑوسی کو بُلوا لیں جنھوں نے ہماری گائے قربان کرنے کا کہا تھا –
سلمان کی خواہش پر اس کے ابو نے پڑوسی سے رابطہ کیا اور کچھ دیر بعد ہی وہ پڑوسی اپنے ساتھ مزید چھ لوگوں کو لے کر آگئے تاکہ ان کی گائے کو ذَبح کیا جا سکے –
” ارے بھائی ، آپ گائے کو منہ کی طرف سے پکڑو -” ایک صاحب نے دوسروں کو اپنی رائے دیتے ہوئے کہا –
” نہیں نہیں ، پچھلی ٹانگوں کی طرف سے رسی باندھ کر گراؤ -” دوسرے صاحب نے بھی گویا اپنا مشورہ دینا ضروری سمجھا –
” ارے کیا بات کررہے ہو بھائی ، کمر سے پکڑ کر نیچے گراؤ – ” گائے ذَبح کرنے والے ایک اور شخص نے بھی اپنی رائے کا اظہار کر ڈالا-”
غَرَض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں والا معاملہ تھا، گائے کو جیسے تیسے کر کے گرا دیا گیا اور جب اسے ذَبح کر کے اس عمل کو مزید آگے بڑھایا گیا یعنی جب بات پہنچی کھال اتارنے اور گوشت بنانے تک تو اس وقت بھی ان اناڑی قصائی نُما لوگوں نے اس طرح چُھریاں چلائیں کہ کھال اتارتے وقت جگہ جگہ سے کھال پر کَٹ بھی لگ گئے اور گوشت بناتے وقت ہڈیوں کا کَچُومَر بھی بن گیا اور ہڈیوں کے چھوٹے اور باریک ذرات گوشت میں شامل ہو گئے دوسری جانب گوشت کو بھی انتہائی خراب طریقے سے بنایا گیا تھا –
سلمان کے ابو جو اس سارے عمل کو دیکھ رہے تھے وہ اس وقت اپنے فیصلے پر پچھتا رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ انھوں نے اناڑی لوگوں کی خدمات کیوں حاصل کیں ، وہ ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ محلے کے ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا ان بزرگ نے بھی گائے ذَبح کرنے والوں کے اناڑی پَن کو بھانپ (پہچان) لیا تھا، انھوں نے سلمان کے ابو کے پاس آ کر ان سے پوچھا کہ آپ نے ان اناڑی لوگوں سے اپنا جانور کیوں ذَبح کرایا – ؟
” کیا کرتا جناب ، قصائی نہیں مل رہا تھا ، ہمارے پڑوسی نے کہا کہ میں اپنے ساتھ کچھ اور لوگ بھی لاؤں گا اور یہ سب مل کر ہمارا جانور ذَبح کر دیں گے تو میں نے بھی ہامی بھر لی -” سلمان کے ابو نے بے تُکے انداز میں بنائے گئے گوشت اور جگہ جگہ سے کٹی کھال کو افسوس کے ساتھ دیکھتے ہوئے کہا-
” اگر قصائی نہیں مل رہا تھا تو کیا یہ ضروری ہے کہ آپ پہلے دن ہی قربانی کرتے ، دوسرے اور تیسرے روز بھی تو قربانی کی جا سکتی ہے نا ، اپنی سہولت کے حساب سے آپ قربانی کر سکتے تھے ، اِن دِنوں میں قصائی بھی آسانی سے مل جاتے ہیں اور جانور کو ذَبح کرنے کے لیے اپنی اُجرت بھی کم لیتے ہیں ، مجھے تو لگتا ہے کہ یہ اناڑی قصائیوں کا گروپ آپ کی گائے پر تَجرِبَہ اور اپنا ہاتھ صاف کر کے گیا ہے – ” بزرگ نے سلمان کے ابو کو سمجھاتے ہوئے کہا –
” آپ صحیح کہہ رہے ہیں ، مجھے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا اور قربانی ایسے قصائیوں سے کرانی چاہیے تھی جن کا کام اور پیشہ یہی ہو یا پھر ایسے لوگ ہوتے جو اس کام اور ہُنر کو جاننے والے ہوں ، یوں ہی کسی کو بھی جانور ذَبح کرنے کا کہنا صحیح فیصلہ نہیں ہے -” سلمان کے ابو نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے شرمندگی کے ساتھ کہا –
” چلو کوئی بات نہیں ، جو ہونا تھا ہو گیا ، اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے بچے کو ایسی ہزاروں عیدیں دیکھنا نصیب فرمائے ، بَس آئندہ خیال رکھیے گا – ” بزرگ نے انھیں دعا دیتے اور سمجھاتے ہوئے مزید کہا کہ بڑی پرانی کہاوت ہے ” بہت قَصائیوں میں گائے مُردار -”
” کیا مطلب!! میں سمجھا نہیں -؟ سلمان کے ابو نے انھیں حیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا –
” بھئی سیدھی سی بات ہے کہ جب مشورہ یا رائے دینے والے بہت سارے لوگ ہوں اور اپنی اپنی ہی کہیں یعنی کسی ایک بات پر متفق نہ ہوں بلکہ جس کو جو بہتر لگے وہ وہی رائے دے تو پھر بَس سمجھ لو کہ کام بنتا نہیں بلکہ بِگَڑ جاتا ہے -” یہ کہہ کر وہ بزرگ وہاں سے چلے گئے –
سلمان کے ابو نے صبر سے کام لیتے ہوئے اپنے کچھ عزیزوں کو فون کر کے گھر بُلایا تاکہ وہ ان کی مدد سے گوشت میں شامل ہونے والے ہڈیوں کے باریک ٹُکروں کو علیحدہ کر سکیں اور پھر گوشت کو صاف کرنے کے بعد اسے تقسیم کر سکیں –
انھوں نے گائے کی جگہ جگہ سے کٹی کھال کو بھی بہت شرمندگی کے ساتھ ایک فلاحی ادارے کو کھال میں موجود عیب (خامی) بتا کر دے دی لیکن اس تجربے کے بعد یہ ضرور ہوا کہ سلمان کے ابو نے اس بات کا عہد کر لیا کہ آئندہ وہ کبھی کسی اناڑی شخص سے کوئی کام نہیں کرائیں گے کیوں کہ اب وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ” جس کا کام اُسی کو ساجھے” اور دوسری جانب وہ اس کہاوت کا بھی مطلب اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ” بہت قصائیوں میں گائے مُردار-“























