پاکستان اور خارجہ پالیسی

کالم: ذوق سجدہ
پاکستان اور خارجہ پالیسی
قمررضا محمد
razagee72@gmail.com

نکل کےصحرا سے جس نےروما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سُنا ہے یہ قُدسیوں سے مَیں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

پاکستان، ترکی، چائنہ، اور آذر بائیجان کا حالیہ و اعلانیہ گٹھ جوڑ یقینا ایک خوش آئند مرحلہ ہے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے گزشتہ روز ان ممالک کے دوروں سے جس قدر وطن عزیز پاکستان کو قدر و عزت ملی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں انڈیا کا پاکستان سے پنگا نہ صرف اس کے گلے پڑ گیا ہے بلکہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو بھی کشمکش میں مبتلا کر گیا ہے
جہاں کئ ماہ پہلے روس پاکستان سے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرتےہوئے 2،6 بلین ڈالرز کے معاہدے کر چکا تھا اب دوسری طرف بنگلہ دیش و ایران کی جانب سے بھی پاکستان کو بڑا بھائی تسلیم کرتے ہوئے اس نئے بلاک میں شامل ہونے کی خواہشات و سفارشات کا اظہار کر دیا ہے
یہ تقریبا 7 ممالک کا گٹھ جوڑ اس نظر سے بھی انتہائی خوش آئند دیکھا جا رہا ہے کہ اس میں تقریبا پانچوں مسلم ممالک کئ دہائیوں سے سیکولر و لبرل اور منافق طبقے سے نہ صرف مار کھا رہے تھے بلکہ انتہائی مجبور و بے کس حالات میں وقت گزارنے پر اکتفاء کئے ہوئے تھے یہاں تک کہ باہمی تعاون و مدد بھی یورپی منڈیوں اور دوستی کا ماسک پہنے بے رحم منافقوں سے چھپ چھپا کر انجام دی جا رہی تھی
پھر آخر کار وہ دن آ ہی گیا کہ ان پانچوں مظلوم اور مار کھائے ہوئے مسلم ممالک نے کھلم کھلا ایک جگہ جمع ہو کر باہمی تعاون کا اعلان کیا اور اپنا قد اپنی ہمت اپنی طاقت اپنی حکمت کا لوہا منواتے ہوئے پوری دنیا کے کفار و منافقین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
تازہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کا اعلان کر کے عربوں کی بھی نیندیں اڑا دی ہیں اور روس سے گزشتہ تجارتی معاہدے کر کے یورپ کو پہلے ہی للکار چکا ہے جواب میں ایران نے بھی پاکستان کے ساتھ کشمیر کاز پر اقوام متحدہ میں مکمل تعاون کا یقین دلا کر انڈیا کو چٹکی کاٹ دی ہے اور ساتھ بلوچستان و سیستان کے امن کی ضمانت دیتے ہوئے باہمی تجارت 10بلین ڈالر تک پہنچانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے ساتھ ہی ساتھ “فری ٹریڈ” معاہدے پر بھی دستخط ہو چکے جس کی وجہ سے اب علاقائی اسمگلنگ کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا اور دوسری طرف بنگلہ دیش نے بھی انتہائی جانی و مالی قربانیوں کے بعد خود مختاری حاصل کرتے ساتھ ہی انڈین مجیب الرحمن کی تمام باقیات و شناخت کو دفن کر دیا ہے تعلقات میں مزید پختہ و مضبوط کرنے کیلئے پاکستان اور چین کے ساتھ تجارتی معاھدوں کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے
آذربائیجان و تاجکستان کے ساتھ معاہدوں کی تفاصیل منظر عام پر نہیں لائی گئ جب کہ ترکیا
افغانستان چونکہ چائنہ کے ساتھ پہلے ہی کئ تجارتی و تعمیری معاہدے کر چکا تھا لیکن اس کے باوجود وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار کے پہ در پہ تین دوروں نے افغان گورنمنٹ کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے جس پر افغانی سیکٹری خارجہ کا پاکستان سے تعاون اور اپنے بارڈر کی جانب سے سالمیت کی حفاظت کا بیان انڈین اخبارات کی سرخیاں بن چکا ہے۔
اس سارے منظر کو دیکھ کر یورپ و عرب کے سینے نہ صرف تپ رہے ہیں بلکہ لمحہ لمحہ صورتحال کا بغور جائزہ بھی لیا جا رہا ہے یوں پاکستان دنیا بھر کے مسلمانوں کے آواز بن کر ابھر رہا ہے پاکستان، چائنہ، ترکیا، آذربائیجان، تاجکستان بنگلہ دیش ایک مستقل و مضبوط گروپ بن کر سامنے آیا ہے جس کے ساتھ ایران و افغانستان بھی مشروط شمولیت کے نہ صرف حامی ہے بلکہ باہمی رضامندی کی کئ سفارشات بھی دستخط کر چکے ہیں۔

سفینۂ برگِ گُل بنا لے گا قافلہ مُورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا