ٹک ٹوک گرل ثناء کے قتل پر ہونے والے تبصرے۔ ٹرینڈ نے مردانہ بالادستی والے معاشرے کی سوچ کو بے نقاب کر دیا۔

ٹک ٹوک گرل ثناء کے قتل پر ہونے والے تبصرے۔ ٹرینڈ نے مردانہ بالادستی والے معاشرے کی سوچ کو بے نقاب کر دیا۔

ٹک ٹوک اسٹار ثناء کے قتل پر سوشل میڈیا کے وحشت ناک تبصرے — مردانہ بالادستی کی معاشرتی سوچ بے نقاب!

سوشل میڈیا پر ٹک ٹوک ویڈیوز بنانے والی معروف گرل ثناء کے قتل کے بعد، کچھ صارفین کے غیرحساس اور تشدد آمیز تبصروں نے معاشرے کی منفی ذہنیت کو عیاں کر دیا ہے۔ ان تبصروں میں ثناء کو “کردار کشی” کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ کچھ نے اس المناک واقعے کو “جائز” قرار دینے کی کوشش کی۔ یہ رویہ معاشرے میں پائی جانے والی مردانہ بالادستی اور عورتوں کے خلاف گھٹن زدہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

سماجی کارکنوں اور حقوق نسواں کے حامیوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف قاتل کو سخت سزا دی جائے، بلکہ سوشل میڈیا پر عورتوں کے خلاف نفرت انگیز مواد کو بھی روکا جائے۔ یہ واقعہ ہمیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک مہذب معاشرے میں رہ رہے ہیں؟
TikTok girl Sana key murder per hony Waly comments. Trend exposed the mindset of male domination society.

ثنا یوسف نے قاتل سے آخری گفتگو میں کیا کہا؟
مقتولہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کی اپنے قاتل سے ہونے والی آخری گفتگو سامنے آگئی، جو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر گولی مارنے سے قبل ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق 22 سالہ ٹک ٹاکر عمر حیات عرف کاکا ثناء یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا، جس کےلیے وہ بار بار رابطہ کر رہا تھا لیکن ثناء یوسف کے انکار پر طیش میں آکر اسے گولی مار دی۔

عینی شاہدین کے بیانات اور مختلف قریبی ذرائع کے مطابق آخری ملاقات کے دوران ثناء یوسف اس صورت حال کو یہ کہتے ہوئے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ’تمہیں غصہ آرہا ہے، یہاں سے چلے جاؤ، یہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں، جاؤ یہاں سے‘۔

اس کے بعد عمر نے ثناء یوسف پر گولی چلا دی اور جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا واقعہ 2 جون کو جی 13 ون میں پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ والدہ کی مدعیت میں تھانہ سنبل میں درج کیا گیا۔

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا مقدمہ درج

مقدمے کے متن کے مطابق پیر کی شام 5 بجے حملہ آور گھر میں داخل ہوا اور ثناء یوسف پر فائرنگ کی۔ 2 گولیاں ثناء یوسف کے سینے میں لگیں، حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق ثناء یوسف کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ثناء یوسف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہوگئی۔

بعدازاں اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ ثناء یوسف کے قاتل کو گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو سی سی ٹی وی ویڈیو اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا مقدمہ درج
اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

مقدمہ ثناء یوسف کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ سنمبل میں درج کیا گیا ہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق پیر کی شام 5 بجے حملہ آور گھر میں داخل ہوا اور ثناء یوسف پر فائرنگ کی۔ 2 گولیاں ثناء یوسف کے سینے میں لگیں، حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق ثناء یوسف کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ثناء یوسف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہوگئی۔

والدہ کا کہنا ہے کہ ملزم کو سامنے آنے پر شناخت کرسکتی ہوں۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا واقعہ گزشتہ روز جی 13 ون میں پیش آیا تھا۔
====================

ثنا یوسف کو اب کوئی ‘خطرہ’ نہیں!
| By
سعدیہ شمیم
جون 4, 2025
ثنا یوسف کو اب کوئی ‘خطرہ’ نہیں
پاکستان میں شادی یا دوستی کرنے سے انکار پر مشتعل ہوکر لڑکی پر تیزاب پھینکنے یا قتل کر دینے کے بے شمار واقعات سامنے آتے رہے ہیں اور اب نوجوان ٹک ٹاکر ثناء یوسف کا قتل ذرایع ابلاغ میں زیرِ بحث ہے اس ملک میں غیرت کے نام پر یا شادی اور دوستی کرنے سے انکار پر کسی لڑکی کا قتل تو نئی بات نہیں، لیکن شاید اخلاقی اقدار کے یہ نام نہاد ٹھیکیدار لڑکیوں کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ انھیں کیسا یا کس ڈیزائن کا لباس پہننا ہے ورنہ کوئی طیش میں آکر لڑکی پر حملہ بھی کرسکتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہ ہو گا بلکہ موقع پر موجود لوگوں کی اکثریت بھی لڑکی کو مطعون کررہی ہوگی۔

گزشتہ دنوں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک الم ناک واقعہ پیش آیا جس میں 22 سالہ نوجوان نے دوستی سے انکار کرنے پر ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقتول ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی عمر 17 برس تھی۔

کیس کا پس منظر
2 جون کو عمر حیات عرف ‘کاکا’ نے ٹک ٹاکر کو گھر میں گھس کر گولی مار دی۔ ثنا یوسف کے قتل کا مقدمہ ان کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا اور قاتل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔

آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ”ملزم فیصل آباد کا رہائشی 22 سالہ عمر، میٹرک پاس طالب علم ہے جو سوشل میڈیا پر پروموشن کے ذریعے پیسے کماتا ہے۔ ملزم عمر کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور اس کے والد ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں۔“

ملزم سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف سے دوستی کا خواہش مند تھا۔ اس نے کئی بار ثنا یوسف کو دوستی کا پیغام دیا، مگر ثنا کی جانب سے ہر بار انکار کیا گیا۔ مسلسل اصرار کے باوجود جب ملزم کی خواہش پوری نہ ہوئی تو وہ مشتعل ہوگیا اور پھر ثنا یوسف کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ اس سے قبل عمر حیات مقتول ٹک ٹاکر کے گھر آیا لیکن آٹھ گھنٹوں تک انتظار کے باوجود اس سے ملاقات نہیں کرسکا۔ 29 مئی کو ثنا کی سال گرہ تھی۔ اس روز بھی ملزم نے ثنا یوسف ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعہ کے روز بھی وہ اس لڑکی سے ملاقات چاہتا تھا، لیکن ناکامی پر ٹک ٹاکر کے گھر میں داخل ہوگیا اور اسے قتل کر دیا۔

دوستی سے انکار نے نوجوان عمر حیات کا خون ایسا جلایا کہ وہ جلّاد بن گیا۔ عمر حیات کا دل دماغ ایک لڑکی کے انکار کو قبول نہ کرسکا۔ شاید اسے اپنی ہتک محسوس ہوئی اور اسی سوچ اور انتقامی جذبے کے تحت اس نے ایک اندوہِ سماعت جرم کا ارتکاب کیا۔ “تُو مجھے کیسے ٹھکرا سکتی ہے….تُو نے مجھے انکار کیسے کیا…. اس کا مزہ بھی تجھے چکھنا ہوگا…. میں تجھے ابھی بتاتا ہوں….. یہ وہی سوچ ہے جس میں‌ شادی سے انکار پر لڑکی کو اٹھا لیا جاتا ہے یا قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جس کے زیرِ اثر ایک مرد دوستی کرنے یا بات کرنے سے انکار پر کسی لڑکی پر تیزاب پھینک دیتا ہے یا پھر وہ غیرت کے نام پر قتل کردی جاتی ہے اور اس طرح کے سنگین جرائم کے بعد مذمتی بیانات کا انبار لگا دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی کسی واقعے کی بازگشت چند روز تک سنائی دیتی ہے اور پھر ایک اور ایسا ہی واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ حکومت اور ادارے ان واقعات کی روک تھام میں ناکام نظر آتے ہیں۔

اشتعال انگیزی اور قتل کے چند حالیہ واقعات
گزشتہ سال 5 ستمبر کو صوبہ خیبرپختوخوا میں ایک اسکول ٹیچر نرگس کو بااثر مقامی شخص نے شادی کی پیشکش قبول نہ کرنے کے بعد گولی مار دی تھی۔ بعد میں‌ معلوم ہوا کہ وہ بااثر شخص مقتولہ کو کافی عرصہ سے ہراساں کررہا تھا اور اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالتا تھا اور پھر ”وہ اگر میری نہیں تو کسی کی نہیں ہوسکتی…” کے جنون میں اس نے ایک عورت کو قتل کردیا۔

حال ہی میں 16 مارچ 2025 کو پنجاب کے شہر ساہیوال کے محلّہ نور پارک میں شادی سے انکار کرنے پر لڑکی کو قتل کر دیا گیا۔ لڑکی اور اس کی والدہ کے انکار پر ملزم نے اشتعال میں‌ آکر لڑکی کی جان لے لی۔ 7 اپریل 2025 کو لاڑکانہ میں بھی ایک ایسا ہی افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں پولیس اہلکار نے ایک ٹیچر کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔

ثنا یوسف کیس اور سوشل میڈیا
اسلام آباد میں‌ 17 سالہ ثنا یوسف کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر مجھے بھی مختلف مباحث اور لوگوں کے خیالات جاننے کا موقع ملا اوران میں بعض تبصرے اُسی سوچ کو تقویت دے رہے تھے جن کا اظہار ایسے واقعات کے بعد گرفتار ہونے والے اکثر ملزمین نے کیا تھا۔ ایک صارف نے لکھا، “جب آپ اپنی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کو لمحہ بہ لمحہ بیچ چوراہے میں رکھ دیں گے تو حادثات کا رسک بڑھ جائے گا۔”

پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والی کئی نوجوان لڑکیاں شوقیہ اور اکثر بسلسلۂ روزگار سوشل میڈیا پر متحرک ہیں۔ ان میں کمپنیوں کو پیشہ ورانہ مہارت کے زور پر خدمات فراہم کرنے والی لڑکیوں کے علاوہ ایسی لڑکیاں بھی شامل ہیں جنھیں‌ سوشل میڈیا انفلوئنسر کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ تو کیا اس معاشرے میں واقعی ان سب لڑکیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں؟

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں جنوری سے نومبر تک 392 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، ان میں سے پنجاب میں 168، سندھ میں 151، خیبر پختونخوا میں 52، بلوچستان میں 19 جب کہ اسلام آباد سے دو کیس رپورٹ ہوئے۔

ملٹی میڈیا پریکٹیشنر کی رائے
عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی ثوبیہ سلیم کی نظر میں ثنا یوسف کا قتل نہ صرف دل دوز ہے بلکہ یہ ہمارے معاشرے میں عورتوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کی ایک اور بدترین مثال ہے۔ اگرچہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قاتل کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف گرفتاری کافی ہے؟ ہمیں اپنے قانونی نظام، سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے تعلیمی اداروں سے آغاز کیا جاسکتا ہے جس سے خواتین کا تحفظ ممکن ہے۔

یہ سلسلہ کیسے رکے گا؟
یہ واقعہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ثنا کا قتل محض ایک شخص کا جرم نہیں بلکہ ایک سوچ کا نتیجہ ہے جو عورت کی آزادی، اس کی خواہش اور خود مختاری کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر پہچان بنانے والی ہر لڑکی اب خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ہمیں معاشرے کے ہر فرد بالخصوص نوجوانوں کو سکھانا ہوگا کہ انکار ایک لڑکی کا حق ہے، اس کے جواب میں ایک لڑکی کو ہراساں کرنا، دھمکی دینا، یا کسی قسم کا تشدد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی رائے کا احترام کرنا ہوگا اور فوری جذباتی ردعمل سے گریز کرنا چاہیے۔

پاکستان میں عورتوں‌ پر تشدد اور قتل کے واقعات کی فہرست طویل ہے اور مخصوص سوچ کے تحت انتہائی قدم اٹھانے یا اشتعال انگیزی کے نتیجے میں‌ قتل کا یہ سلسلہ اُس وقت تک نہیں رکے گا جب تک ریاستی سطح پر مؤثر اور سخت سزاؤں کا نفاذ نہیں کیا جاتا۔ دوسری طرف والدین بالخصوص بیٹوں کی تربیت کرتے ہوئے انھیں یہ سکھائیں کہ وہ اپنی خواہش اور اپنی کسی آرزو کا اظہار ضرور کرسکتے ہیں۔ لیکن اپنی بات منوانے کے لیے کسی پر جسمانی یا ذہنی تشدد نہیں کیا جاسکتا بلکہ غصہ اور اشتعال انگیزی آپ کے لیے ہی نہیں آپ کے کنبے کو بھی مشکل سے دوچار کرسکتی ہے۔ بلاشبہ اس سلسلے میں آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے‌ حکومتی سطح پر کوششوں کے ساتھ ساتھ والدین کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔

ثنا یوسف کیس: فلم و ٹی وی پر تشدد کی تمجید اور اس کے مہلک اثرات
==================

اسلام آباد میں قتل کی واردات، مقتولہ ثناء یوسف کے والد کا ویڈیو بیان سامنے آگیا
اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں قتل کی جانے والی ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے والد کا بیان سامنے آگیا۔

2 جون کی شام فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ ملزم عمر حیات عرف ‘کاکا’ نامی ٹک ٹاکر نے دوستی کرنے کے جواب میں مسلسل ‘نا’ سننے کے بعد ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو ان کی رہائش گاہ پر قتل کیا۔

ثناء یوسف کے قتل کے بعد ان کی والدہ کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

تاہم اب مقتولہ کے والد کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حکومت سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

ویڈیو بیان میں مقتولہ کے والد نے کہا کہ میں سرکاری ملازم ہوں، میری حکومت سے گزارش ہےکہ میرے ساتھ جو حادثہ پیش آیا ہے، اس میں جو بھی ملوث ہے اس کی تحقیقات کی جائیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی یا تنازع نہیں ہے، اس واقعے کی تحقیقات کرکے مجھے انصاف دلایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے ملزم تک حکومت کی پہنچ ہونی چاہیے، حکومت مجھے انصاف دلائے یہ میری حکومت سے اپیل ہے۔

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو قتل کیوں کیا؟ گرفتار ملزم نے اعتراف جرم کرلیا

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے مبینہ قاتل کے فرار ہونےکی ویڈیو سامنے آگئی