
ون پوائنٹ
نوید نقوی
پنجاب پولیس یوں تو پوری دنیا میں اپنے پروفیشنل ازم اور بہادری کی وجہ سے مشہور ہے لیکن صوبہ پنجاب میں ضلع رحیم یار خان کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے کہ یہاں کے افسران اور اہلکاروں کو کچے کے ڈاکوؤں کا چیلنج درپیش رہتا ہے۔ ضلع رحیم یار خان نے پنجاب پولیس کو ہمیشہ ایسے جوان دیے ہیں جو اپنی جانفشانی اور دلیری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ یہاں کے بہادر سپوتوں نے کئی بار اپنے گرم خون سے مقدس سرزمین کی آبیاری کی ہے۔ میرے والد محترم سید فیاض حسین نقوی نے اپنی زندگی کے قیمتی 42 سال پنجاب پولیس کو دیے ہیں، اس لیے اس فورس سے قدرتی طور پر انسیت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز کو ہمسائے مکار دشمن کے ساتھ ساتھ خونخوار ڈاکوؤں، جرائم پیشہ عناصر اور تکفیری خوارج کا سامنا ہے تو بحیثیت ایک پاکستانی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی فورسز بشمول پولیس کے مورال کو ڈاؤن نہ ہونے دیں اور ان کی پشت پر موجود رہیں تاکہ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر مسلح افواج بشمول پولیس پر اٹھنے والی انگلیاں خود بخود نیچے ہو جائیں۔ میں نے اس موضوع پر انہی صفحات پر کئی بار لکھا ہے لیکن آج کا کالم اس جانباز کے لیے جس کے آنے سے ہمارے علاقے میں حیرت انگیز طور پر سو فیصد جرائم میں کمی ہو چکی ہے۔ میں نے آج تک جو بھی لکھا ہے، میرٹ اور سچائی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا ہے اور میں اپنے ایک ایک لفظ کی سچائی کا ذمہ دار ہوں۔ ضلع رحیم یار خان پولیس میں اگر آپ کسی بھی عام شخص سے دبنگ، ایماندار، فرض شناس، جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرنے والا ، مظلوموں کا ہمدرد اور بہادر آفیسر کا نام جاننے کی کوشش کریں گے تو میں پورے یقین سے کہتا ہوں آپ کو ایک نام سننے کو ملے گا اور وہ ہے ایس ایچ او سردار جاوید خان گوپانگ،
ضلع رحیم یار خان کے ڈی پی او عرفان علی سموں صاحب نے مختلف تھانوں میں ایسے ایس ایچ او صاحبان تعینات کیے ہیں جو بہادری اور قابلیت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے، ان کا سب سے بڑا چیلنج کچے کے ڈاکوؤں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کے لینڈ مافیاز، ڈاکوؤں کے سہولت کاروں اور بدمعاشوں کو لگام ڈالنا ہے۔ یکم مئی 2025 کو سردار صاحب تھانہ شیدانی میں ایس ایچ او تعینات ہوئے ہیں۔ یہ بات مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جب سے اس مرد مجاہد نے تھانہ شیدانی شریف کا چارج سنبھالا ہے، تھانے کی حدود میں سو فیصد امن قائم ہو چکا ہے۔ جاوید خان گوپانگ صاحب کی تعیناتی سے قبل اس علاقے میں جرائم پیشہ افراد دندناتے پھرتے تھے لیکن آپ نے سب کو قانون کی گرفت میں لے کر قرار واقعی سزا دلوانے کا جو عمل شروع کیا ہے، اس سے بڑے بڑے کرپٹ عناصر میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ سردار صاحب نے علاقے میں مثالی امن قائم کرتے ہوئے جرائم پیشہ لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ان کا میسیج موصول ہوا کہ نقوی بھائی میں تھانے موجود ہوں، آ جائیں چائے اکٹھے پیتے ہیں۔ جب ان کے آفس پہنچا تو وہ سائلین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک عورت نے ہاتھ جوڑ کر ان کو دعائیں دینا شروع کر دیں کہ بیٹا آپ واحد آفیسر ہیں، جس نے مجھ بے بس کی فریاد سنی اور میرے مجرم کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا ہے۔ ایک بزرگ بھی ان کو دعائیں دیتے ہوئے آفس میں داخل ہوئے، میرے استفسار پر بتایا کہ ان کو رشتہ داروں نے تنگ کیا ہوا تھا، مجبوراََ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی، سردار جاوید خان گوپانگ صاحب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آفیسر ہیں، اس وقت وہ ایل ایل بی بھی کر رہے ہیں تاکہ قانونی پیچیدگیوں کو سمجھ کر جرائم پیشہ عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچا سکیں۔ سردار صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ جو یہاں بیان کرنا انتہائی ضروری ہے، ان کی تعیناتی کے چند دن بعد ظفر آباد یونین کونسل کی حدود میں ایک اندوہناک واقعہ ہوتا ہے، ایک ظالم شخص اپنی چچی، دادی اور دو معصوم کزنوں کو جن کی عمر چند سال تھی، چند مرلہ زمین کے تنازعے میں بیدردی سے ذبح کر دیتا ہے، ستم ظریفی یہ کہ اس شقی القلب کا چچا اس کے خاطر تواضع کرنے کے لیے بازار سے گوشت خریدنے گیا ہوا ہوتا ہے۔ سردار صاحب کو جیسے ہی اس واقعے کی اطلاع ملتی ہے، آپ مع نفری فوراً جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں اور فوری طور پر قاتل کو گرفتار کرنے کے لیے اپنی ٹیموں کو ایکٹو کر دیتے ہیں۔ اس دوران ضلعی پولیس آفیسر عرفان علی سموں صاحب بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر لواحقین کو قاتل کی گرفتاری اور اس کو قرار واقعی سزا دلوانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ سردار صاحب کو اپنے مخبر کے ذریعے اطلاع ملتی ہے کہ قاتل چانجنی روڈ کراس کرنے والا ہے اور اس کے پاس آتشیں اسلحہ بھی ہے، جاوید خان صاحب اس قاتل کو گرفتار کرنے کے لیے علاقے کو کورڈن آف کرتے ہیں اور ناکہ بندی کر کے انتظار کرتے ہیں، انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی جاتی ہیں، آخر کار قاتل اور پولیس کا آمنا سامنا ہوتا ہے، پولیس کو دیکھ کر قاتل فائرنگ کرتا ہے اور جوابی فائرنگ میں واصل جہنم ہو جاتا ہے۔ یوں چوبیس گھنٹے کے اندر اندر سردار صاحب ایک بے رحم قاتل کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر اطمینان کی نیند سوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش نہ صرف ناکام بناتے ہیں بلکہ اغوا کنندگان کو گرفتار کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالتے ہیں۔ انہوں نے مجھے کئی واقعات بتائے جن کو یہاں لکھنے کے لیے کتاب کی ضرورت ہے۔ لیکن میں نے یہ چند واقعات لکھ کر ان کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی ہے، عام طور پر ہمارا معاشرہ شہید ہونے کے بعد کسی آفیسر یا اہلکار کی تعریفیں کرتا ہے، میں سمجھتا ہوں، ایسے بہادر، ایماندار آفیسرز کو ان کی زندگی میں انعامات یا خراج عقیدت پیش کیا جائے تاکہ وہ معاشرے میں موجود ناسوروں کے خلاف بے خوف ہو کر لڑ سکیں۔
Load/Hide Comments























