بہاولپور ایسا تو نہیں تھا؟

ون پوائنٹ
نوید نقوی

یہ نیوز دو جون کی ہے لیکن میں نے آج اس کو پڑھا ہے۔ آپ یقین کریں جیسے ہی یہ اندوہناک خبر پڑھی، میری آنکھوں کے گرد اندھیرا چھا گیا اور میں سکتے میں آ گیا، میرے ہاتھ کانپنے لگے، حاکم وقت کو شاید کچھ احساس نہ ہو لیکن میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ بہاولپور، جی ہاں نوابوں کے شہر، میری مادر علمی اسلامیہ یونیورسٹی کے شہر، ایک ایسا شہر جہاں مسعود صابر بھائی اور احسان اللہ راحت صاحب جیسے عظیم لوگ رہتے ہیں، ریسکیو بہاولپور کے مطابق ہفتے کے روز یعنی دو جون 2025 کو پڑوسیوں نے انہیں اطلاع دی کہ لوہار والی گلی کے ایک گھر میں دو بزرگ خواتین بے ہوش پڑی ہیں، ریسکیو اہلکار وہاں پہنچے تو ایک خاتون دم توڑ چکی تھیں جب کہ دوسری کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
بچ جانے والی خاتون کے مطابق وہ دونوں بہنیں کئی روز سے بھوکی پیاسی تھیں۔
اہل محلہ کے مطابق دونوں خواتین غیرشادی شدہ اور گھر میں اکیلی رہتی تھیں، کوئی کمانے والا نہیں تھا، بہنوں کا ایک بھائی بھی تھا جو کافی عرصےسے لاپتا ہے۔ ( پولیس کو اس حوالے سے مکمل تحقیق کرنی چاہیئے کہ بھائی کہاں ہے ) اب تک کی اطلاعات کے مطابق
دم توڑنے والی بزرگ خاتون کی تدفین کردی گئی ہے، انتقال کر جانے والی خاتون کی بڑی بہن اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہے۔ وہ خاتون شاید خوابوں میں اپنی بہن سے معافی مانگتی ہو کہ اس ظالم دنیا میں وہ اس کے لیے ایک روٹی کا بندوست تک نہ کر سکی۔ میں سکتے کی کیفیت میں ہوں کہ نوابوں کے شہر میں ایک خاتون بھوک پیاس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئی اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی؟ میں عام طور پر ہر روز کئی نیوز چینلز پر دو یا تین نیوز بلیٹن سنتا ہوں اور ایک دو اخبارات کا مطالعہ بھی لازمی کرتا ہوں، بہت سی ایسی خبریں نظروں سے گزرتی ہیں جو دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ جن کو پڑھ کر کئی کئی دن دل افسردہ رہتا ہے۔ لیکن اس نیوز کی وجہ سے میں بہت غمزدہ ہوں اور قلم اٹھانے پر مجبور ہوا ہوں۔ اس سے سخت، اس سے زیادہ دردناک، اس سے زیادہ کرب شاید ہی کسی اور خبر میں ہو۔ میں اپنے درد کو الفاظ میں یہاں بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، لیکن امید رکھتا ہوں کہ اس درد کو آپ نہ صرف محسوس کریں گے بلکہ کوئی بھی صاحب دل یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کے شہر یا محلے میں ایسا واقعہ کبھی ہو۔ خدارا آپ معلوم کیا کرو کہ ہمسائیگی میں کون، کس حال میں ہے؟ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس بچوں کے لیے عید یا ایسے تہواروں کے لیے کپڑے خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے، کئی ایسے سفید پوش دیکھے ہیں جو بڑی مشکل سے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ اب عید قربان آ رہی ہے، خدارا قربانی کے اصل مقصد کو بھول نہ جائیں۔ میں یہاں ایک بات شیئر کرنا چاہتا ہوں، میں نے دو سال کراچی میں گزارے ہیں اور وہاں میٹرو ون نیوز چینل میں بطور ریسرچر/ ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کرنٹ افیئرز کام کیا ہے۔ میں یہاں کھل کر یہ بات کہنا چاہوں گا کہ مجھے کراچی اور کراچی کے لوگوں سے بے انتہا پیار ہے۔ کراچی نے مجھے نام دیا، عزت دی، روٹی دی۔ میں کراچی میں جہاں بھی گیا، مجھے با اخلاق، غنی لوگ ملے، جی ہاں کراچی کا شہری غریب ہوگا، سفید پوش ہوگا ، خود مشکل سے گزارا کر رہا ہوگا لیکن مہمان نواز اور غریبوں کا ہمدرد ضرور ہوگا۔
یہاں پر مجھے کراچی کی ایک اور بات یاد آئی ہے۔ ماہ رمضان میں ہم دوست ایک بار بھی خود سے افطاری نہیں کرتے تھے، بلکہ اس عظیم لوگوں کے عظیم شہر میں کھانے کو بہت کچھ مل جاتا تھا۔ آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ
کراچی بظاہر ایک یتیم شہر ہے، نہ انفراسٹرکچر، نہ سیف سٹی، نہ انٹرٹینمنٹ کے مواقع، چوری اور راہزنی کی وارداتیں عام ہیں۔
ان سب باتوں کے باوجود جو مجھے کراچی کی بات سب سے زیادہ پسند ہے وہ یہ کہ وہاں بندہ بھوک سے نہیں مر سکتا۔ جگہ جگہ فی سبیل اللہ لنگر خانے، جگہ جگہ سبیلیں، جگہ جگہ اور دن کے تین اوقات مستحق افراد کے لیے کھانے کا مفت بندوبست، اور شائد کراچی دنیا کا پہلا اور اکلوتا شہر ہو جہاں پر ادویات کا بھی لنگر بٹتا ہے۔
اللہ کراچی کے مخیر حضرات کو جزائے خیر دے۔ اللہ تعالیٰ کراچی کے شہریوں کو ہر پریشانی سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین
میری دل سے دعا ہے یا اللہ ہمیں ایک ایسا پاکستان دیکھنا نصیب فرما جہاں کم از کم کوئی بھوک اور پیاس سے اپنی جان سے نہ جائے۔