ثنا یوسف نے قاتل سے آخری گفتگو میں کیا کہا؟


ثنا یوسف نے قاتل سے آخری گفتگو میں کیا کہا؟
مقتولہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کی اپنے قاتل سے ہونے والی آخری گفتگو سامنے آگئی، جو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر گولی مارنے سے قبل ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق 22 سالہ ٹک ٹاکر عمر حیات عرف کاکا ثناء یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا، جس کےلیے وہ بار بار رابطہ کر رہا تھا لیکن ثناء یوسف کے انکار پر طیش میں آکر اسے گولی مار دی۔

عینی شاہدین کے بیانات اور مختلف قریبی ذرائع کے مطابق آخری ملاقات کے دوران ثناء یوسف اس صورت حال کو یہ کہتے ہوئے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ’تمہیں غصہ آرہا ہے، یہاں سے چلے جاؤ، یہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں، جاؤ یہاں سے‘۔

اس کے بعد عمر نے ثناء یوسف پر گولی چلا دی اور جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا واقعہ 2 جون کو جی 13 ون میں پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ والدہ کی مدعیت میں تھانہ سنمبل میں درج کیا گیا۔

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا مقدمہ درج

مقدمے کے متن کے مطابق پیر کی شام 5 بجے حملہ آور گھر میں داخل ہوا اور ثناء یوسف پر فائرنگ کی۔ 2 گولیاں ثناء یوسف کے سینے میں لگیں، حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق ثناء یوسف کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ثناء یوسف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہوگئی۔

بعدازاں اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ ثناء یوسف کے قاتل گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو سی سی ٹی وی ویڈیو اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
==================

کراچی: ڈاکو تاجر سے 58 لاکھ روپے لوٹ کر فرار
کراچی کے علاقے صدر میں موبائل فون مارکیٹ کے باہر تاجر سے 58 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے۔

صدر موبائل مارکیٹ کے پاس تاجر سے ہونے والی ڈکیتی کا مقدمہ پریڈی تھانے میں درج کر لیا گیا۔

مدعی کے بیان کے مطابق بینک سے رقم نکلوا کر دکان جارہا تھا کہ ملزمان تعاقب کرتے ہوئے پہنچے اور 58 لاکھ روپے لوٹ کرلے گئے۔

مدعی کے مطابق واردات 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے کی اور گارڈن کی طرف فرار ہونے۔

کراچی: 3 خواتین گھر سے 98 لاکھ روپے مالیت کے زیورات لوٹ کر فرار

کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان عرفان کا وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا سخت نوٹس لیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے، تاجروں سے ڈکیتی کی بڑھتی وارداتیں سخت تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینک سے رقم لانے والے کئی ڈیلرز لوٹے جاچکے ہیں، جبکہ ملزمان گرفتار نہیں کیے جاسکے۔ کروڑوں روپے ٹیکس دینے والی مارکیٹوں میں پولیس کی نفری انتہائی کم ہے۔

رضوان عرفان نے کہا کہ پولیس کی عدم دلچسپی کے سبب کاروباری مراکز جرائم پیشہ عناصر کی جنت بن گئے ہیں۔ الیکٹرونکس اور موبائل مارکیٹوں کو فوری موثر تحفظ دیا جائے۔
================

کراچی: ملیر جیل سے فرار مزید 3 قیدی گرفتار، تعداد 94 ہو گئی
کراچی کی ملیر جیل سے 2 روز قبل فرار ہونے والے مزید 3 قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد گرفتار قیدیوں کی تعداد 94 ہو گئی۔

جیل حکام کے مطابق 122 قیدی ابھی بھی مفرور ہیں، گرفتاری کےلیے آپریشن جاری ہے۔

حکام نے کہا کہ رضا کارانہ طور پر واپس آنے والے قیدیوں کے ساتھ رعایت بھرتی جائے گی، مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے گھروں پر چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔

قیدیوں نے جیل کی کینٹین اور ڈسپنسری بھی لوٹ لی

جیل حکام کا کہنا تھا کہ جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کا مقدمہ شاہ لطیف ٹاؤن میں درج ہے، پولیس مقابلہ، اقدام قتل اور ڈکیتی سمیت انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق دو روز قبل ہزاروں قیدی زلزلے کے خوف کے باعث توڑ پھوڑ کرتے ہوئے نکلے تھے، رات ڈیڑھ بجے کے قریب قیدیوں نے مرکزی دروازہ توڑا، 216 قیدی فرار ہوگئے۔

ابتدائی رپورٹ میں سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعات میں 12 قیدی اور مختلف اسٹاف ارکان زخمی ہوئے تھے، فرار ہونے کے دوران فائرنگ سے طاہر خان نامی قیدی ہلاک بھی ہوا ہے۔