سندھ حکومت اور موٹروے پولیس کا مل کر اوورلوڈنگ کی روک تھام، گاڑیوں کی فٹنس اور قومی شاہراہوں کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات کا فیصلہ

کراچی، 3 جون 2025

انسپکٹر جنرل نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) بی اے ناصر نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز پولیس ساؤتھ ریجن سینئر افسران کے افسران کے ہمراہ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ سے منگل کے روز اہم ملاقات کی۔ اس اجلاس میں سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز، اور سیکریٹری امپلیمنٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم (ALCR) کے نفاذ، گاڑیوں کی معائنے و سرٹیفکیشن کے نظام کو بہتر بنانے اور قومی شاہراہوں و موٹرویز کی حفاظت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اوورلوڈنگ سے بچنے کے لیے ٹرانسپورٹرز غیر قانونی راستے استعمال کرتے ہیں۔ NHMP نے بتایا کہ جب بھی ایسے راستے سامنے آتے ہیں تو انہیں متعلقہ ریجنل اتھارٹیز کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے تاکہ ان راستوں کو بند کیا جا سکے۔ اس ضمن میں ضلعی و مقامی پولیس کی مستقل تعیناتی ضروری قرار دی گئی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے آگاہ کیا کہ صوبائی حکومت 32 نئے وی اسٹیشنز کے قیام پر کام کر رہی ہے۔

اوورلوڈ گاڑیوں کے خلاف FIR درج کرنے اور ان پر عملدرآمد کی رفتار کو بھی زیر غور لایا گیا۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ ان FIRs پر سختی سے عملدرآمد کر کے قانون شکنی کی روک تھام کی جائے۔

گاڑیوں کی فٹنس کے جدید نظام کی طرف پیش رفت کے لیے VICS ماڈل اپنانے پر بھی بات ہوئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ تمام گاڑیوں کی فٹنس سے قبل جسمانی معائنہ ضروری ہو، اور فرنٹ اسکرین پر فٹنس سرٹیفکیٹ کی تاریخِ اجرا اور معیاد واضح طور پر چسپاں کی جائے۔ پرانی اور خراب گاڑیوں کو شاہراہوں پر لانے سے روکنے کے لیے مربوط پالیسی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں سندھ میں سوشل یا سیاسی گروہوں کی جانب سے شاہراہوں کی بندش پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ اس سے نہ صرف عوامی تحفظ کو خطرہ ہوتا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے، لہٰذا ضلعی انتظامیہ کو فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی۔

موٹرویز کے ساتھ نصب حفاظتی باڑوں کی چوری و توڑ پھوڑ کے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ ان باڑوں کا مقصد آوارہ جانوروں اور غیر متعلقہ افراد کو مین کیریج وے پر آنے سے روکنا ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ NHMP نے اس میں مقامی پولیس کی مدد اور مقدمات درج کرنے پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے صوبے بھر میں گاڑیوں کے معائنے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی سڑک پر چلنے کی اہلیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید نظام کے تحت اب گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس QR کوڈ کے ساتھ جاری کیے جا رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مالکان کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ کو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر نمایاں طور پر چسپاں کریں تاکہ حکام باآسانی اس کی تصدیق کر سکیں۔

سیکریٹری محکمہ ایکسائیز بتایا کہ صوبائی حکومت انشورنس کمپنیوں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ گاڑیوں کے لیے انشورنس کو لازمی قرار دیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد حادثات یا نقصان کی صورت میں گاڑی مالکان اور مسافروں کے لیے تحفظ اور مالی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ NHMP اور NHA کے ساتھ بھرپور اشتراک کیا جائے۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے باہمی تعاون سے ہی شاہراہوں کی حفاظت، اوورلوڈنگ کی روک تھام اور قانون کا نفاذ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔