
سپریم کورٹ نے ٹائلز بنانے والی کمپنی کے ملازمین کو برخاست کرنے سے کتعلق سروسز ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے بقایاجات قانون کے مطابق ادا کرنے کا حکم دیدیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ٹائلز بنانے والی کمپنی کے ملازمین کو برخاست کرنے سے متعلق سروسز ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالت عظمی نے سروسز ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف اپیل مسترد کردی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق کمپنی بند کرنے سے پہلے سندھ حکومت کو آگاہ کرنا تھا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ہم نے سیکریٹری لیبر سندھ کو درخواست دی تھی، فیصلہ نہیں ہوا ابھی تک۔ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس میں کہا کہ سیکریٹری لیبر گورنمنٹ نہیں ہے یہ الگ بات ہے وہ خود کو سرکار ہی سمجھتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اختیارات اپنے پاس لے لئے سیکریٹری گورنمنٹ نہیں ہے، گورنمنٹ کو درخواست دینا تھی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سرکاری وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ گورنمنٹ سندھ کیا ہے؟ گورنمنٹ کا کیا مطلب ہے؟ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ کابینہ سندھ حکومت ہے، سیکریٹری گورنمنٹ تصور نہیں ہوتے۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ کابینہ کو آگاہ کرنے کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو درخواست دینا تھی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی دوبارہ بحالی کا کوئی امکان نہیں، 20 ،20 سال کی ملازمت میں فی کس 4 لاکھ روپے ادا کررہے ہیں۔ عدالت عظمی نے برخاست ہونے والے ملازمین کو بقایاجات قانون کے مطابق ادا کرنے کا حکم دیدیا۔ استغاثہ کے مطابق ٹائلز کمپنی نے 2016 میں کمپنی بند کرکے ملازمین کو برخاست کردیا تھا۔ سروسز ٹربیونل نے کمپنی کو برضاست ہونے والے ملازمین کو بقایاجات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ سروسز ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف کمپنی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔
====================
سپریم کورٹ نے ایس ایچ او پر کچے کے ڈاکوؤں سے تعلقات اور بھتہ خوری کے الزام سے کتعلق سروسز ٹربیونل کے بحالی کے فیصلے کیخلاف سندھ حکومت کی اپیل مسترد کردی۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ایس ایچ او پر کچے کے ڈاکوؤں سے تعلقات اور بھتہ خوری کے الزام سے متعلق سروسز ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف حکومت سندھ کی اپیل کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ کچے کے ڈاکوؤں اور بھتہ خوری کے الزام کی ڈی ایس پی نے ایس ایچ او اباڑو غلام عباس کیخلاف تحقیقات کیں۔ تحقیقات میں ڈاکوؤں کے ساتھ تعلقات اور بھتہ خوری کے الزامات ثابت ہوئے۔ متعلقہ ایس ایس پی نے ایس ایچ او کو نوکری سے برحاست کیا گیا۔ ڈی آئی جی سکھر نے ایس ایچ او کو بحال لیکن آئی جی سندھ نے ایس ایچ او کو نوکری سے نکال دیا تھا۔ سروسز ٹربیونل نے آئی جی سندھ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ایس ایچ او کو بحال کردیا۔سروسز ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ پولیس میں کالی بھیڑوں موجودگی پر زیرو ٹالرنس ہے۔ عدالت عظمی نے ریمارلس دیئے کہ سروسز ٹربیونل نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا، قانون کیخلاف اگر احکامات ہوتے تو ضرور جائزہ لیتے۔ عدالت نے عظمی نے ریمارکس دیئے کہ سروسز ٹربیونل کے فیصلے کے مطابق ایس ایچ او کو عہدے پر بحال کیا جائے۔ آئی جی سندھ نے برخاست کرتے وقت ایس ایچ او غلام عباس سندرانی کو سننے کا موقع نہیں دیا۔ عدالت عظمی نے سروسز ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف سندھ حکومت کی اپیل مسترد کردی۔
==================
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج ساؤتھ کے روبرو خضدار بم دھماکے کے ملزم کی حمایت کا الزام سے متعلق مقدمے کے اندراج کی درخواست پر نوٹس جاری کردیئے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ایس ایچ او سٹی کورٹ انکوائری رپورٹ کے ساتھ 14 جون کوپیش ہوں۔ عدالت نے صدر کراچی بار اور سیکریٹری کو نوٹس بھی نوٹس جاری کردیئے۔ صدر کراچی باراور سیکریٹری کیخلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست راجہ راشد علی ایڈووکیٹ نے دائر کی۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ عامر نواز وڑائچ اور رحمن کورائی نے دہشتگرد کی گرفتاری کی مذمت کی۔ زکریا اسماعیل خضدار بس دھماکے میں ملوث ہے۔ کراچی بار کے صدر اور سیکریٹری نے زکریا اسماعیل نے گرفتاری پرمذمتی بیان جاری کیا تھا۔ کراچی بار کے صدر اور سیکرٹیری نے دہشتگرد کی حمایت کرکے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچایا ہے۔سٹی کورٹ پولیس ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرنےسے انکاری ہے۔ دونوں کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرایا جائے۔ پولیس کو ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔























