پاکستان میں پولیو ویکسینیشن کا ساتواں دن، 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو ویکسین فراہم کی جا رہی ہے

پاکستان میں پولیو ویکسینیشن کا ساتواں دن، 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو ویکسین فراہم کی جا رہی ہے

آج پاکستان بھر میں پولیو ویکسینیشن مہم کا ساتواں دن ہے۔ یہ سال 2025 کی تیسری مہم ہے، جس میں کل 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، اور اس ساتویں دن بھی مہم انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔

پولیو ورکرز انتہائی لگن اور جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کے باوجود، یہ ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے خطرناک وائرس سے بچانے میں مصروف ہیں۔ اس بار میڈیا کی آگاہی مہم اور سوشل میڈیا کی بدولت عوام نے پولیو ٹیموں کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور ان کے کام کو سراہا۔

حکومت کی جانب سے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیو افسران اور ورکرز نے اپنا کام شاندار طریقے سے سرانجام دیا ہے۔ یہ پولیو ہیروز ہیں، جن کی محنت سے ملک کو پولیو سے پاک بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ ہر شہری کو چاہیے کہ ان کی کاوشوں کو سراہے، ان کا ساتھ دے، اور پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

آئیے، مل کر پولیو کو جڑ سے ختم کریں!
================================

پاکستان سے پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے منفرد مہم شروع
آصف بشیر چوہدری
پاکستان سے پولیو کے موذی وائرس کے خاتمے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی گئی ہے۔

ویکسینیشن ٹیموں نے جھولوں اور اونٹ کی مفت سواری کروانے کے ذریعے بچوں تک رسائی حاصل کرلی ہے۔

مخصوص علاقوں میں جھولے، اونٹ کی سواری اور رنگ برنگی تفریحی سرگرمیاں نا صرف بچوں کی توجہ کا مرکز بن رہی ہیں بلکہ پولیو سے بچاؤ کی ویکسین اُن بچوں تک پہنچ رہی ہے جو پہلے محروم رہ جاتے تھے۔

پولیو مہم: 3 روز میں ملک بھر کے 81 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل

انسداد پولیو پروگرام کے ترجمان ضیاء الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ان جھولوں کو ان علاقوں میں رکھا جا رہا ہے جو پولیو کے لحاظ سے خطرناک تصور کیے جاتے ہیں۔ سرحدی علاقے یا مہاجر بستیاں اور وہ ’گرے ایریاز‘ جہاں قطرے پلانے سے انکار کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔

پہلے مرحلے میں بلوچستان کے تین اضلاع کوئٹہ، چمن اور پشین کے 9 مقامات پر قائم کیے گئے ان مراکز پر جوں ہی بچے مفت جھولے جھولنے پہنچے، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز نے ان کی انگلیوں پر ویکسین کے نشانات چیک کیے، جو بچہ بغیر ویکسین کے پایا گیا، اسے فوری خوشگوار ماحول میں پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

اگرچہ اس سال بلوچستان میں اب تک کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا تاہم پاکستان کے 50 سے زائد اضلاع میں وائرس کی موجودگی اور سرحدی علاقوں میں اس کا پھیلاؤ اب بھی خطرے کی گھنٹی ہے، ویکسینیشن کا یہ نیا طریقہ پولیو کے خلاف جنگ میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) برائے تخفیف پولیو نے کہا ہے کہ ابتدائی 3 دن کے دوران ملک بھر میں 81 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہو گئی ہے۔

این ای او سی کے مطابق پنجاب میں 85 اور سندھ میں 68 فیصد بچوں کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے جبکہ کے پی میں 86 اور بلوچستان میں 74 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے۔

ملک میں سال کے اختتام پر بھی پولیو کیس سامنے آگیا

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق اسلام آباد میں اب تک 63 فیصد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جاچکے ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں 93 اور گلگت بلتستان میں 91 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہوگئی ہے۔

این ای او سی کے مطابق پولیو کا سرحد پار پھیلاؤ روکنے کے لیے پاکستان افغانستان میں بیک وقت مہم جاری ہے۔

این ای او سی کا کہنا تھا کہ والدین سے گزارش ہے کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، پولیو وائرس اب بھی ہمارے ماحول میں ایک سنگین خطرہ بن کر موجود ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کی ویکسینیشن ہر شہری کی قومی ذمے داری ہے، والدین سے اپیل ہے کہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں۔
=========================

لطیف آباد میں پولیو ٹیم پر مسلح افراد کا حملہ اور فائرنگ‘ پولیو ٹیم بچ گئی
01 جون ، 2025
حیدرآباد ( بیورو رپورٹ)بی سیکشن تھانے کی حدود لطیف آبادنمبر 6میں پولیو ٹیم پر مسلح افراد کاحملہ اور فائرنگ‘ پولیو ٹیم بچ گئی ‘بی سیکشن پولیس نے پولیو ٹیم پر حملے کے الزام میں ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او بی سیکشن انسپکٹر نیاز پہنور نے پولیو ٹیم پر حملے اورفائرنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ محکمہ صحت کے افسران کی شکایت پر پولیو ٹیم کے ایک رکن کی مدعیت میں حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔