“سندھ کی دہکتی دھوپ میں پولیو ورکرز کا بے مثال جذبہ: ہم سب کی ذمہ داری”

“پولیو کے خلاف جنگ میں ہر شہری کا کردار اہم!”

سندھ بھر میں اس وقت شدید گرمی کی لہر چل رہی ہے، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ ایسے سخت موسم میں جب لوگ گھروں اور سائے میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، پولیو ورکرز اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر گلی گلی، محلے محلے اور دور دراز کے علاقوں میں پولیو ویکسین پہنچانے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ یہ بے نام ہیرو ہمارے اپنے گھروں کے بیٹے، بیٹیاں، مائیں اور بہنیں ہیں، جو ہمارے بچوں کو ناقابل علاج بیماری سے بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

پولیو ورکرز کا جذبہ: قابلِ احترام
سخت دھوپ اور تپتی گرمی میں یہ عظیم لوگ گھر گھر جا کر والدین کو پولیو ویکسین کی اہمیت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ایک ہے: پاکستان کو پولیو سے پاک کرنا۔ لیکن کیا ہم ان کی اس قربانی کو سمجھ رہے ہیں؟ کیا ہم ان کی مدد کر رہے ہیں؟

ہماری ذمہ داری:
پولیو ورکرز ہمارے معاشرے کے اصل ہیرو ہیں، اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان کا ساتھ دیں۔ اگر وہ آپ کے دروازے پر دستک دیں تو:

انہیں دھوپ میں کھڑا نہ رہنے دیں، گھر کے اندر یا سائے میں بلائیں۔

ان کا گرمجوشی سے استقبال کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

اگر ممکن ہو تو انہیں تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنے دیں۔

ایک گلاس پانی یا ٹھنڈی مشروب پیش کر کے ان کی تھکن دور کریں۔

آئیے، مل کر پولیو کا خاتمہ کریں!
پولیو ورکرز کی محنت کو رنگ لانے کے لیے ہمارا تعاون ضروری ہے۔ اگر ہم سب اپنا کردار ادا کریں تو یہ ممکن ہے کہ جلد ہی پاکستان کو پولیو سے مکتی مل جائے۔ یہ ورکرز ہمارے بچوں کی صحت کی خاطر دن رات کام کر رہے ہیں، اب ہماری باری ہے کہ ان کی عزت کریں، انہیں سپورٹ کریں اور ان کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کریں۔

یاد رکھیں: ایک چھوٹی سی مدد، تھوڑی سی ہمدردی اور خوش آمدید کا جذبہ پولیو کے خلاف جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آئیے، آج ہی عہد کریں کہ ہم پولیو ورکرز کا ساتھ دیں گے!

#پولیو_سے_آزادی_ہماری_ذمہ داری
#سندھ_کے_ہیرو_پولیو_ورکرز