
اسٹیوٹا کی کارکردگی پر چیف سیکرٹری کا اظہار عدم اطمینان- اسٹیوٹا سے فارغ التحصیل صرف 35 فیصد طلبہ کو ملازمت ملتی ہے، چیف سیکریٹری سندھ
اسٹیوٹا کے اجلاس میں اٹھائے گئے سوالات — کیا نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے؟
کامریڈ (خصوصی رپورٹ)
کراچی: چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اسٹیوٹا کے اہم اجلاس میں نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کورسز شروع کرنے، اداروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت چلانے، اور 100 فیصد ملازمت کی یقین دہانی جیسے بڑے دعوے کیے گئے۔ لیکن ان فیصلوں کے پیچھے کیا حقیقی منصوبہ بندی ہے؟ کیا یہ محض کاغذی کارروائی ہے یا نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش؟
35 فیصد روزگار کا المیہ — باقی 65 فیصد کا کیا ہوگا؟
اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ اسٹیوٹا سے فارغ التحصیل صرف 35 فیصد طلبہ کو ملازمت ملتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقی 65 فیصد نوجوانوں کا کیا قصور ہے؟ کیا ان کی محنت اور ٹیکس کے پیسے پر چلنے والے ادارے انہیں روزگار دینے میں ناکام ہیں؟ چیف سیکریٹری نے 100 فیصد ملازمت یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے، لیکن کیا اس کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل یا بجٹ مختص کیا گیا ہے؟
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ — نجی شعبے کا فائدہ یا عوامی دھوکہ؟
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ 30 فیصد ادارے PPP کے تحت چلائے جائیں گے۔ لیکن کیا نجی شعبہ محض اپنے مفادات کے لیے اسکیموں کو ہائی جیک نہیں کرے گا؟ آصف حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ “ہر معاہدے میں روزگار کا ہدف شامل کیا جائے”، مگر کیا اس کی نگرانی ہوگی؟ کیا نجی کمپنیاں کم تنخواہوں پر نوجوانوں کا استحصال نہیں کریں گی؟
6 ڈویژنز میں 30 ماڈل ادارے — کیا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا؟
فیصلہ کیا گیا کہ سندھ بھر میں 6 ڈویژنز سے 30 ماڈل ادارے قائم کیے جائیں گے جن میں عالمی معیار کی اسناد دی جائیں گی۔ لیکن کیا موجودہ 256 اداروں (کراچی 56، حیدرآباد 65، سکھر 31، لاڑکانہ 46، میرپور خاص 18، شہید بے نظیرآباد 43) کو درست کرنے کی بجائے نئے منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے؟ کیا پرانے اداروں میں تدریسی عملے کی کمی، فرسودہ نصاب اور خراب انفراسٹرکچر جیسے مسائل کو نظرانداز کیا جارہا ہے؟
مصنوعی ذہانت کے کورسز — کیا صرف ہدایت کافی ہے؟
چیف سیکریٹری نے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے کورسز فوری شروع کرنے کی ہدایت دی۔ لیکن کیا اسٹیوٹا کے پاس اس کے لیے ماہر اساتذہ، جدید لیبارٹریز اور صنعتی رابطے موجود ہیں؟ یا یہ محض ایک اور “کاغذی کورس” ثابت ہوگا جس کا مقصد نوجوانوں کو جعلی امیدیں دینا ہے؟
نجی شعبے کا تعاون — کیا یہ محض ایک نعرہ ہے؟
آصف حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ “اسٹیوٹا کی بہتری کے لیے نجی شعبے کا تعاون ناگزیر ہے”۔ لیکن کیا نجی کمپنیاں بغیر کسی مراعات کے نوجوانوں کو روزگار دیں گی؟ کیا یہ PPP ماڈل پہلے کی طرح کرپشن اور اقربا پروری کا شکار نہیں ہوگا؟
آخری سوال: کیا اسٹیوٹا اصلاحی منصوبہ بندی کر رہا ہے یا عوامی تاثر بہتر بنانے کی کوشش؟
اگرچہ اجلاس میں بڑے فیصلے کیے گئے، لیکن عملی اقدامات، ٹائم لائن، اور نگرانی کے بغیر یہ تمام ترقیاتی دعوے محض ایک اور سرکاری بیان بازی لگتے ہیں۔ کیا چیف سیکریٹری سندھ اور اسٹیوٹا انتظامیہ اس بار نوجوانوں کے ساتھ مخلص ہیں؟ یا پھر یہ الیکشن سے پہلے کی ایک اور پرفارمنس ہے؟
سندھ کے نوجوانوں کو جواب چاہیے — اور وہ صرف عملی نتائج پر یقین رکھتے ہیں۔
=============================
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اسٹیوٹا کا اہم اجلاس
اجلاس میں چیئرمین اسٹیوٹا جنید بلند، ڈی جی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ایم ڈی اسٹیوٹا اور متعلقہ افسران شریک
نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کورسز فوری شروع کیے جائیں، چیف سیکریٹری سندھ کی ایم ڈی اسٹیوٹا کو ہدایت
اجلاس میں اسٹیوٹا کو جدید اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق کورسز متعارف کرانے کی ہدایت
اسٹیوٹا سے فارغ التحصیل صرف 35 فیصد طلبہ کو ملازمت ملتی ہے، چیف سیکریٹری سندھ
اسٹیوٹا سے تربیت حاصل کرنے والے گریجویٹس کی 100 فیصد ملازمت یقینی بنائی جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایت
اسٹیوٹا کو فعال بنانے کے لیے کے 30 فیصد ادارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ
اسٹیوٹا صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرامز شروع کرے۔ آصف حیدر شاہ
سندھ بھر میں 6 ڈویژنز سے 30 ماڈل ادارے قائم کیے جائیں گے، اجلاس میں فیصلہ
ماڈل اداروں میں جدید نصاب، تربیت یافتہ عملہ اور عالمی معیار کی اسناد فراہم ہوں گی، اجلاس میں فیصلہ
اسٹیوٹا کے تحت کراچی میں 56، حیدرآباد میں 65 ادارے کام کر رہے ہیں، اجلاس میں آگاہی
سکھر میں 31، لاڑکانہ میں 46، میرپور خاص میں 18 اور شہید بے نظیرآباد میں 43 ادارے موجود، اجلاس میں آگاہی
اسٹیوٹا کے اداروں کی بہتری کے لیے نجی شعبے کا تعاون ناگزیر ہے: آصف حیدر شاہ
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ہر معاہدے میں روزگار کا ہدف شامل کیا جائے: چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ
ماڈل اداروں کا مقصد نوجوانوں کو مقامی و عالمی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے: جنید بلند
اسٹیوٹا کو تدریسی عملے کی کمی، پرانے نصاب اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل حل کیے جائیں گے: چیف سیکریٹری سندھ























