
سندھ حکومت کا پولیو کے خلاف زیرو ٹالرینس کا اعلان: 26 مئی سے تاریخی مہم کا آغاز
کراچی / وزیراعلیٰ ہاؤس / 21 مئی 2025ء

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر بلدیات سعید غنی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اسلام آباد سے این ای سی او کے کوآرڈینیٹر کیپٹن انوارالحق اور مختلف اضلاع کے ڈی سیز بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔

“پولیو کے خاتمے کے لیے اجتماعی کارروائی ناگزیر ہے”
وزیراعلیٰ سندھ نے زور دے کر کہا کہ “پولیو کے خلاف جنگ دراصل اعتماد اور مساوات کی جنگ ہے۔” انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پولیو کے خطرات ابھی موجود ہیں، لیکن سندھ حکومت نے اس وائرس کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 26 مئی سے یکم جون تک صوبے بھر میں تاریخی انسدادِ پولیو مہم چلائی جائے گی، جس میں 1 کروڑ 6 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی۔

30 اضلاع میں 80,000 ورکرز اور 25,539 پولیس اہلکار تعینات
اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے 30 اضلاع میں 80,000 تربیت یافتہ ورکرز سرگرم ہوں گے، جبکہ مہم کی نگرانی کے لیے 25,539 پولیس اہلکارز بھی تعینات کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ خود مہم کی نگرانی کریں گے تاکہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

شہید بینظیر آباد میں 100% کوریج، کراچی میں چیلنجز

اجلاس میں رواں سال کے اعداد و شمار پیش کیے گئے، جن کے مطابق شہید بینظیر آباد میں پولیو ویکسین کی کوریج 100% رہی، جبکہ حیدرآباد اور سکھر میں 99%، لاڑکانہ اور میرپورخاص میں 98% اور کراچی میں 94% کوریج ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، وزیراعلیٰ نے کراچی کے ہائی رسک علاقوں میں ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کو قائل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ 157 ڈاکٹرز کو 6,780 انکاری کیسز کے لیے تعینات کیا گیا ہے، جبکہ 2,524 مزاحم والدین کو پولیس کی مدد سے کور کیا جائے گا۔

گندے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی خطرناک انتباہ

اجلاس میں ایک اہم انکشاف یہ ہوا کہ صوبے کے گندے پانی کے 11 نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وائرس ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ “ہر چھوٹا ہوا بچہ ممکنہ پولیو کیس ہے، اس لیے والدین، علماء، اساتذہ اور ورکرز کو مل کر ہر بچے تک ویکسین پہنچانی ہوگی۔”
عالمی سطح پر پولیو کی صورتحال تشویشناک
وزیراعلیٰ نے افغانستان میں 2 سے 10 پولیو کیسز کی رپورٹ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ہم نے ابھی اجتماعی کوششیں نہ کیں تو یہ مرض دوبارہ پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے ویکسین سے انکار کے رجحان پر قابو پا لیا ہے، لیکن ابھی مزید کام کرنا ہوگا۔
مہم کے دوران اضافی اقدامات
بچوں کے قوتِ مدافعت میں اضافے کے لیے وٹامن اے کے قطرے بھی دیے جائیں گے۔
یونین کونسل سطح پر Refusal Conversion Committees فعال کی گئی ہیں تاکہ انکاری والدین کو قائل کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ سندھ کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔
عبدالرشید چنا
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ























