
خوفناک طوفان: 21 ہلاکتیں، مکانات تہس نہس
وسطی امریکا میں ایک شدید اور مہلک طوفانی سلسلے نے تباہی مچا دی، جس میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ طوفان گھروں کو زمین بوس کرتے ہوئے، درختوں کو جڑ سے اکھاڑتے ہوئے اور درجنوں ریاستوں میں بجلی کے کھمبوں کو گراتے ہوئے مشی گن سے لے کر الاباما تک پھیل گیا۔
کینٹکی میں تباہی
کینٹکی کے لارل کاؤنٹی میں طوفان کے بعد کے مناظر دل دہلا دینے والے تھے۔ مقامی لوگ اور امدادی کارکناں ملبے کے ڈھیروں اور ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں میں متاثرین کو تلاش کر رہے تھے۔ گورنر اینڈی بشیر کے مطابق، ریاست کے جنوب مشرقی حصے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے، اور یہ تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایک مقامی رہائشی نے طوفان کے دوران کے تجربے کو کچھ یوں بیان کیا:
“میں گھر کے اندر تھا اور کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ ہر چیز ہوا میں اُڑ رہی ہے۔ میں نے کسی طرح خود کو اور اپنے گھر والوں کو محفوظ جگہ پر پہنچایا۔ کھڑکیاں ٹوٹ رہی تھیں، اور میں نے جتنی بھی دعائیں یاد تھیں، پڑھنی شروع کر دیں۔”

مسوری میں تباہی
اس سے پہلے جمعہ کے روز مسوری میں ایک شدید طوفان آیا، جس میں کم از کم 5 افراد ہلاک ہو گئے۔ ریاست کے دوسرے حصوں میں بھی طوفان سے متعلق 2 مزید اموات کی اطلاعات ہیں۔ سی این این کی نامہ نگار جولیا ورگس جونز نے سینٹ لوئس، مسوری میں تازہ صورتحال بتاتے ہوئے کہا:
“یہاں کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے مکانات کی چھتیں اڑا دی ہیں، درخت جڑ سے اکھڑ گئے ہیں، اور بجلی کے تار گر چکے ہیں۔ امدادی ٹیمیں اب بھی لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔”
گورنر اور میئر کا ردعمل
مسوری کے گورنر اور میئر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کا اعلان کیا۔ گورنر نے کہا:
“یہاں کی تباہی دیکھ کر دل دکھتا ہے۔ ہم اپنی پوری طاقت سے متاثرین کی مدد کے لیے کوشاں ہیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کے جوانوں نے بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔”
ایک خاتون کا دردناک تجربہ
جوآن ملر کا گھر طوفان کی زد میں آیا، جس کی ایک پوری دیوار گر گئی۔ انہوں نے بتایا:
“میں دفتر سے گھر واپس آئی تھی کیونکہ موسم خراب ہونے کی پیشگوئی تھی۔ جب طوفان آیا، تو میں نے اور میرے شوہر نے خود کو باتھ روم میں بند کر لیا۔ چند سیکنڈ بعد ہی گھر کا پچھلا حصہ تباہ ہو چکا تھا۔ میرے گھر کو 1912 میں مضبوط اینٹوں سے بنایا گیا تھا، لیکن طوفان نے اسے بھی نہیں چھوڑا۔”
ان کا گھر اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، لیکن وہ اور ان کا شوہر محفوظ ہیں۔
مزید طوفانوں کا خدشہ
اگرچہ یہ طوفان کمزور پڑ چکا ہے، لیکن موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگلے چند دنوں میں مزید طوفان آ سکتے ہیں۔
اختتامیہ
یہ طوفان وسطی امریکا کے لیے ایک المیہ بن کر آیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں اور پیاروں کو کھو چکے ہیں، لیکن ان کی ہمت اور امدادی کارکنوں کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ اللہ سب کو صبر دے اور آنے والے دنوں میں ایسی آفات سے محفوظ رکھے۔























