سندھ میں پولیو ٹیموں کے لیے بڑا چیلنج: ڈاکوؤں کے علاقوں میں ویکسینیشن مہم خطرے سے دوچار

سندھ میں پولیو ٹیموں کے لیے بڑا چیلنج: ڈاکوؤں کے علاقوں میں ویکسینیشن مہم خطرے سے دوچار

کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیو کے خلاف جنگ میں ایک خوشآئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق، کراچی میں پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنے والے والدین کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو ایک حوصلہ افزاء بات ہے۔ تاہم، اب بھی کئی والدین پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے ہزاروں بچے اس مہلک بیماری کے خطرے سے دوچار ہیں۔ حکام مسلسل انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگر بات نہ بنی تو پولیس کارروائی کو آخری حل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

ڈاکوؤں کے علاقے: پولیو مہم کے لیے سب سے بڑا خطرہ
سندھ کے دور دراز اور قبضہ گروپوں کے زیر اثر علاقوں، خاص طور پر کچہ اور سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی سرحدی پٹی، میں پولیو ٹیموں کے لیے کام کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ یہاں ڈاکوؤں کا راج ہے، جو اغواکاری اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہیں۔ ان حالات میں پولیو ورکرز کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، اور اکثر ٹیموں کو ان علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ کئی بار ویکسینیشن مہم رک جاتی ہے کیونکہ ڈاکو ٹیموں کو یرغمال بنا لیتے ہیں یا انہیں دھمکیاں دیتے ہیں۔

حکومت کیا کرے گی؟
سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت ان خطرناک علاقوں میں پولیو ویکسین پہنچانے کے لیے کیا اقدامات کرے گی؟ کیا پولیس اور رینجرز کی مدد سے محفوظ راستہ بنایا جائے گا؟ یا پھر مقامی قبائلی رہنماؤں اور مذہبی علماء کے ذریعے ڈاکوؤں سے بات چیت کی جائے گی؟ عوام کی توقع ہے کہ حکومت فوری طور پر ایک واضح حکمت عملی بنائے، کیونکہ ہر تاخیر سینکڑوں بچوں کو پولیو کے خطرے میں ڈال رہی ہے۔

امید کی کرن: سندھ کے دیگر حصوں میں بہتری
اگرچہ کچہ اور سرحدی علاقے سنگین چیلنجز سے دوچار ہیں، لیکن سندھ کے دیگر اضلاع میں پولیو مہم کامیابی سے جاری ہے۔ والدین میں بیداری بڑھ رہی ہے، اور ویکسینیشن کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگر محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تو پولیو کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

اللہ پاک ہمارے بچوں کو ہر بیماری سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے۔ آمین!

خوشخبری: کراچی میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کی شرح میں نمایاں کمی

اللہ کا شکر ہے کہ کراچی میں پولیو ویکسین کے حوالے سے والدین کی رضامندی میں خوشآئند اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنے والے والدین کی شرح میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، جو ایک حوصلہ افزاء پیش رفت ہے۔ تاہم، اب بھی بہت سے بچے خطرے سے دوچار ہیں کیونکہ کچھ والدین پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ حکام انہیں قائل کرنے کی بار بار کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگر بات نہ بنے تو پولیس ایکشن کو آخری حل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔