
ہمارے نامہ نگار
18 مئی 2025
اسلام آباد:
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ حکومت 26 مئی کو ملک بھر میں پولیو کے خلاف وسیع مہم شروع کرے گی، جس کے تحت 5 سال سے کم عمر کے 45 ملین سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی۔
گزشتہ ماہ، وزیراعظم شہباز شریف نے 7 روزہ قومی مہم کا آغاز کیا تھا، جس میں لاکھوں بچوں کو ویکسین فراہم کی گئی۔ انہوں نے ملک سے پولیو کے خاتمے کے عزم کو دہرایا۔
اتوار کو بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر کرس ایلیاس کے ساتھ ملاقات کے بعد وزیر صحت نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔
“وزیراعظم خود پولیو پروگرام کی کارکردگی کی نگرانی کر رہے ہیں اور کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، نیز قانون نافذ کرنے والے ادارے، اس مشن میں متحد ہیں،” مصطفیٰ کمال نے کہا۔

انہوں نے گیٹس فاؤنڈیشن کی مسلسل حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پولیو مہم میں سیکورٹی فورسز نے “بے پناہ قربانیاں” دی ہیں۔ “ہماری جدوجہد قربانیوں سے عبارت ہے، لیکن پولیو کا مکمل خاتمہ ہونے تک یہ مشن جاری رہے گا۔”
وزیر صحت نے بتایا کہ آئندہ مہم افغانستان کے ساتھ مشترکہ طور پر چلائی جائے گی۔ فروری اور اپریل میں ہونے والی مہمات کامیابی سے مکمل ہوئی ہیں، جبکہ ویکسینیشن کے خلاف مزاحمت میں بھی کمی آئی ہے۔
“معیاری مہمات اور عوامی تعاون کی وجہ سے ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ ہم اس سال کے آخر تک پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
ڈاکٹر کرس ایلیاس نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ملک 2025 تک پولیو کے خاتمے کے ہدف کو حاصل کر لے گا۔
بدقسمتی سے، پاکستان اب بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو موجود ہے۔ اس سال اب تک 8 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال، پاکستان میں 74 پولیو کیسز سامنے آئے تھے۔
========================
آئندہ قومی پولیو مہم کی حکمتِ عملی پر غور کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس
اسلام آباد، 14 اپریل 2025 — وفاقی وزیر برائے قومی صحت، سید مصطفیٰ کمال نے آج نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) اسلام آباد میں صوبائی وزرائے صحت کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کا مقصد پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے حوالے سے حالیہ پیشرفت کا جائزہ لینا اور آئندہ قومی پولیو مہم کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنا تھا۔
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو، محترمہ عائشہ رضا فاروق، قومی وصوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے کوآرڈینیٹرز سمیت اعلیٰ حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔ یہ اجلاس وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے بعد بین الصوبائی سطح پر پہلا باضابطہ اجلاس تھا، جس میں حکومت کی جانب سے انسداد پولیو کے لیے نئے عزم کا بھرپور اظہار کیا گیا۔
سال 2025 میں اب تک صرف 6 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ 2024 میں رپورٹ ہونے والے 74 کیسز کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ اجلاس میں اس کامیابی کو سراہا گیا، تاہم مسلسل خطرے والے علاقوں میں حفاظتی خلا کو ختم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت، سید مصطفیٰ کمال نے کہا:
“صحت ہماری قومی ترجیح ہے اور پولیو کا خاتمہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنی حالیہ کامیابیوں کو مزید مضبوط کرنا ہوگا، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں وائرس خاموشی سے پھیل رہا ہے۔ ہمیں اپنی کوششوں کو دوگنا کرتے ہوئے ان علاقوں میں بھرپور توجہ دینی ہوگی۔”
وفاقی وزیر صحت نے فرنٹ لائن ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: “یہ پروگرام مربوط عوامی صحت کا ایک مثالی ماڈل بن چکا ہے، جس میں ای پی آئی اور انسداد پولیو پروگرام کی ہم آہنگی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی، کوئٹہ بلاک اور جنوبی خیبرپختونخوا میں وائرس کی موجودگی انتہائی تشویشناک ہے، اور آئندہ مہم کا مقصد ان علاقوں تک رسائی حاصل کرنا اور رہ جانے والے بچوں کو ویکسین فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
آئندہ قومی انسداد پولیو مہم جس کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔ اس مہم میں 4 لاکھ فرنٹ لائن ورکرز شریک ہوں گے، جن میں 2 لاکھ 25 ہزار خواتین بھی شامل ہوں گی۔
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق نے کہا:
“ہم ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی ہماری حکمتِ عملی اور ٹیموں کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ تاہم وائرس اُن علاقوں میں اب بھی موجود ہے جہاں رسائی چیلنج ہے۔ اپریل کی مہم ہمارے لیے ایک اہم موقع ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “2-4-6 حکمت عملی”، جو سالانہ دو قومی، چار ذیلی قومی اور چھ کیس رسپانس مہمات پر مشتمل ہے، وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ 2024 کے اختتام پر بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی مہمات نے بچوں کو بہتر قوتِ مدافعت فراہم کی۔ آج کم کیسز، مؤثر اے ایف پی نگرانی اور ماحولیاتی نمونوں کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں، تاہم غفلت یا کوتاہی کی کسی بھی صورت میں اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اجلاس میں صوبائی وزرائے صحت نے انسداد پولیو کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور خاص طور پر وائرس کے بنیادی گڑھ والے علاقوں میں مؤثر اقدامات اور کمیونٹی سطح پر شراکت داری بڑھانے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ، فیلڈ سطح پر احتساب کا نظام مضبوط کرنے، معمول کی ویکسینیشن کو پولیو مہمات سے ہم آہنگ کرنے اور مقامی سطح پر مؤثر کمیونیکیشن حکمت عملی اپنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ رہ جانے والے اور انکاری بچوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکے۔
پاکستان میں انسداد پولیو کا سفر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور آج کے اجلاس نے اس امر کی توثیق کی کہ سیاسی عزم اور ہم آہنگ کوششوں کے ذریعے پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ممکن ہے۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔ اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com























