
سندھ کی صحت کی خدمات کو عالمی معیار پر پہنچانے پر ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی تعریف
معروف بزنس لیڈر عقیل کریم ڈھیڈھی نے سندھ کی صحت محکمہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے ہسپتالوں میں مریضوں کو جدید ترین سہولیات اور مفت علاج کی فراہمی ایک قابلِ ستائش کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی وزیر محترمہ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی قیادت میں سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے چاروں صوبوں میں سب سے آگے رہ کر شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ عقیل کریم ڈھیڈھی نے پاکستان کے معروف نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے اپنے ڈی ایچ اے آفس میں بات چیت

کرتے ہوئے کہا کہ “سندھ کے ہسپتالوں میں نہ صرف ملک بھر سے بلکہ 11 دیگر ممالک سے آنے والے مریضوں کو بھی عالمی معیار کا علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی صحت کے شعبے میں انتھک محنت اور عوامی خدمت کے جذبے کو دیکھ کر ہر کوئی ان کی تعریف کر رہا ہے۔ ان کی کاوشوں سے سندھ کے ہسپتالوں میں جدید ترین آلات اور بہترین علاج کی سہولیات میسر ہیں۔ خاص طور پر نک ویڈ (NICVD)، گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اور SIUT جیسے اداروں نے دل اور دیگر پیچیدہ امراض کے علاج میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان اداروں کو حکومتِ سندھ کی جانب سے بھرپور فنڈنگ فراہم کی گئی ہے، جس کی وجہ سے یہاں غریب مریضوں کو اعلیٰ ترین معیار کی طبی سہولیات میسر ہیں۔

عقیل کریم ڈھیڈھی نے کہا کہ انڈس ہسپتال، SIUT اور دیگر طبی اداروں کو سندھ حکومت کی طرف سے مسلسل تعاون حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ ادارے غریبوں کے لیے رحمت ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے آبادی کے شعبے میں بھی اچھا کام کیا ہے، لیکن صحت کے محکمے میں ان کی کارکردگی حقیقتاً قابلِ تعریف ہے۔ سندھ حکومت اور محترمہ وزیرِ صحت کو ان کی کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈھی نے امید ظاہر کی کہ سندھ صحت کے شعبے میں مزید ترقی کرتے ہوئے پورے ملک کے لیے مثال بنے گا۔
=================================
عالمی ادارہ صحت، محکمہ صحت کو فراہم 300 بائیکس ویکسی نیٹرز کے حوالے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) عالمی ادارہ صحت کی جانب سے محکمہ صحت کو فراہم کی گئیں 300 موٹر سائیکلیں ویکسی نیٹرز کے حوالے کر دی گئیں، اس سلسلے میں ایک تقریب ای پی آئی سندھ کراچی کے دفتر میں منعقد ہوئی۔
==================
1ارب 21 کروڑ بجٹ کے باوجود سندھ حکومت ملیریا پر قابو پانے میں ناکام
کراچی -انسداد ملیریا پروگرام کے لیے 1.21 ارب روپے مختص کرنے کے باوجود، سندھ حکومت بیماری کے پھیلا ؤکو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ماہرین نے اینٹی ملیریا اسپرے کے معیار پر تشویش کا اظہار کیا ہےتفصیلات کے مطابق صرف چار ماہ کے دوران صوبے بھر میں ملیریا کے 28,800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو انسداد ملیریا 25-2024 کے اس پروگرام کے موثر ہونے پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔سندھ کے کئی علاقوں بشمول سکھر، لاڑکانہ اور خیرپور کو مچھروں پر قابو پانے کے لیے خاطر خواہ فنڈز موصول ہوئے۔ تاہم حکام نے خاص طور پر دیہی علاقوں میں، مناسب فیومیگیشن مہم چلانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے بروقت کارروائی نہ کرنے سے مذکورہ خطوں میں ملیریا تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔محکمہ صحت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری سے اپریل 2025
تک سندھ میں 494,000 سے زائد افراد کے ملیریا کے ٹیسٹ کیے گئے۔ ان میں سے 28,820 کے نتیجے مثبت آئے۔
https://e.jang.com.pk/detail/897562
======================================
ڈاکٹر محمد افضل الحق سر سید یونیورسٹی کے دوبارہ وائس چانسلر مقرر
کراچی( سید محمد عسکری) ڈاکٹر محمد افضل الحق کو سر سید یونیورسٹی آف انجینئرننگ اینڈ ٹیکنالوجی کا دوبارہ وائس چانسلر مقرر کردیا گیا ہے ان کی تقرری چار برس کے لیے کی گئی ہے۔ ڈاکٹر افضل الحق اس سے قبل جامعہ این ای ڈی، صفاء یونیورسٹی ڈی ایچ اے اور سر سید یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر محمد افضل الحق کی جب جامعہ این ڈی میں چار برس کی مدت مکمل ہوئی تھی تو وہ سر سید یونیورسٹی آف انجینئرننگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر مقرر ہوگئے تھے تاہم چند برس بعد انسان کی سرسید یونیورسٹی کی انتظامیہ سے اختلافات ہو گئے تھے جس کے بعد وہ مستعفی ہو گئے اور ڈی ایچ اے کی صفاء یونیورسٹی میں وائس چانسلر ہوگئے تھے۔
=============================
موسمیاتی خطرات: اٹلی کا سندھ میں پسماندہ افراد کیلئے 4.4 ملین ڈالر کا منصوبہ
اسلام آباد( ساجد چوہدری، مہتاب حیدر ) اٹلی نے سندھ کے دیہی علاقوں میں موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنے والے پسماندہ افراد کو بااختیار بنانے کیلئے 4.4 ملین ڈالر کی مالیت سے منصوبہ شروع کیا ہے جو تین سال میں مکمل ہو گا منصوبہ ارلی وارننگ سسٹم قائم کر کے ، پانی کے معیار کی نگرانی کو بہتر بنا کر سندھ میں دیہی برادریوں کی مدد کرے گا اس حوالے سے جمعہ کے روز مختلف تنظیموں کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے گئے ، معاہدے پر دستخط کی تقریب اٹلی کے سفارت خانے اور اے آئی سی ایس کے نمائندوں کی موجودگی میں پاکستان میں اٹلی کی سفیر ماریلینا ارمیلن کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، اطالوی ایجنسی فار ڈیولپمنٹ کوآپریشن کی طرف سے مالی اعانت فراہم کی گئی ہے ۔























