حیدرآباد کے کالج شاپنگ سینٹر میں مالی بے ضابطگیاں، حکومت کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا

حیدرآباد، 16 مئی 2025 — ریجنل ڈائریکٹر کالجز، حیدرآباد کے دفتر کے مالی سال 2022-23 سے 2023-24 کے آڈٹ کے دوران سنگین مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں گورنمنٹ سٹی کالج حیدرآباد کے شاپنگ سینٹر کی دکانوں کے کرایہ جات کی وصولی میں کوتاہی اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سندھ فنانشل رولز، جلد اول کے ضمیمہ 18-A کے مطابق، ہر افسر اس بات کو پوری طرح سمجھ لے کہ اگر حکومت کو اس کی کوتاہی یا غفلت کے باعث نقصان ہو تو وہ ذاتی طور پر ذمہ دار ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر کسی دوسرے سرکاری افسر کی غفلت سے نقصان ہوا ہو تو جس حد تک وہ خود اس میں ملوث ہو، اس کی بھی ذمہ داری عائد ہوگی۔

آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ریجنل ڈائریکٹر نے بطور ایڈمنسٹریٹر شاپنگ سینٹر خدمات انجام دیتے ہوئے دکانوں کا کرایہ نہ صرف مارکیٹ ریٹ سے بہت کم رکھا بلکہ کرایہ کی مد میں تقریباً 22.51 لاکھ روپے کی واجب الادا رقم بھی تاحال وصول نہ کی گئی۔

آڈٹ کے مطابق محکمہ نے حکومت کو اس کے جائز محاصل سے محروم رکھا۔ مذکورہ بے ضابطگی کی نشاندہی مینجمنٹ کو OM#21 اور OM#22 کے ذریعے کی گئی، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ آڈٹ کی واضح ہدایات کے باوجود، ریجنل ڈائریکٹر نے مارکیٹ ریٹ پر کرایہ مقرر کرنے کے بجائے، مبینہ طور پر ہر دکاندار سے 50,000 روپے رشوت لے کر دسمبر 2025 تک ایڈوانس کرایہ چالان جاری کر دیے۔

آڈٹ حکام نے فوری اصلاحی اقدامات، واجب الادا کرایوں کی ریکوری اور تمام کرایہ داری معاہدوں کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق ازسرنو ترتیب دینے کی سفارش کی ہے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو معاملے کو مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ فورمز پر لے جایا جا سکتا ہے۔