مودی وزیراعظم بن کر بھی ایک غنڈا اور قاتل ہی ثابت ہوا ، مودی کی وجہ سے ساری دنیا نے بھارت کا اصل دہشت گرد چہرہ دیکھ لیا


مودی وزیراعظم بن کر بھی ایک غنڈا اور قاتل ہی ثابت ہوا ، مودی کی وجہ سے ساری دنیا نے بھارت کا اصل دہشت گرد چہرہ دیکھ لیا
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے اپنے دفتر میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مشہور بزنس مین اور سماجی رہنما عقیل کریم ڈھیڈی نے بھارت کو میدان جنگ میں شکست فاش دینے پر جنرل عاصم منیر اور افواج پاکستان کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پوری قوم کا دل جیت لیا ساری دنیا کے سامنے بھارت اور مودی کو ننگا کر دیا اس کا اصل دہشت گرد چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا پاکستانی افواج نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی اور بھارت کو شکست فاش ہوئی اور بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو گیا انہوں نے کہا کہ مودی وزیراعظم بن کر بھی ایک غنڈے کا غنڈا ہی رہا وہ وزیراعظم بن کر بھی غنڈا اور قاتل ہی ثابت ہوا دوسری جانب پاکستان کا نام ساری دنیا میں سر بلند ہو گیا ہے پاکستان ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر دنیا کے سامنے اگیا ہے پاکستان کے لیے انے والے دن بہت شاندار ہوں گے جنگ جیتنے کے ساتھ ہی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں میں تیزی اگئی ہے ساری دنیا کی توجہ پاکستان پر ہو گئی ہے پاکستان کی سٹاک میں بھاری سرمایہ کاری ہو رہی ہے پاکستان کی معدنیات پر سب کی توجہ ہے اور پاکستان کی معاشی سرگرمیوں میں بہت تیزی اور بلندی دیکھ رہا ہوں انشاءاللہ پاکستان بہت مضبوط معیشت بنے گی ساری دنیا کے لیے اب پاکستان جیسے ملک میں سرمایہ کاری کا پوٹینشل دیکھ رہا ہوں امریکہ برطانیہ اور گلف میں بھی اتنا پوٹینشل نظر نہیں ارہا جتنا پاکستان میں ہے اس علاقے میں پاکستان ایک بڑی معاشی قوت بن کر ابھر رہا ہے پاکستان نے خود کو ہر محاذ پر چیمپین ثابت کر دیا ہے اور پاکستان نے دلیری سے حالات کا مقابلہ کر کے پاکستان کو معاشی بحران سے بھی نکالا ہے اور اب پاکستان معاشی قوت بننے جا رہا ہے

==========================
کراچی (خصوصی رپورٹ) – ممتاز صنعتکار اور معروف سماجی رہنما عقیل کریم ڈھیڈھی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو “تاریخی اور قابلِ ستائش” قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ثالثی نے نہ صرف جنگ کے خطرے کو ٹالا بلکہ خطے میں مذاکرات کی راہ ہموار کی۔

ڈھیڈھی نے اپنے بیان میں کہا، “صدر ٹرمپ نے ایک غیرجانبدار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا۔ ان کی سفارتی حکمت عملی نے نہ صرف فوری جنگ بندی ممکن بنائی بلکہ مستقبل میں مستقل امن کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔”

انہوں نے زور دیا کہ “پاکستان ہمیشہ سے امن کا علمبردار رہا ہے، لیکن خطے میں دیرپا استحکام کے لیے عالمی طاقتوں کی بھرپور معاونت ضروری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ کوششیں جنوبی ایشیا کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔”

کشمیر تنازعہ اور امریکی ثالثی
گزشتہ ماہ کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان فضائی اور زمینی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت اور سفارتی کوششوں کے باعث 10 مئی کو جنگ بندی عمل میں آئی، جسے دونوں طرف سے قبول کر لیا گیا۔

امیدوں کی نئی کرن
ڈھیڈھی نے کہا کہ یہ جنگ بندی محض ایک عارضی حل نہیں بلکہ مستقل امن کی جانب پہلا قدم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے پرامن حل کے لیے اسی طرح مثبت کردار ادا کرتی رہے۔ “خطے کی ترقی اور خوشحالی امن سے وابستہ ہے، اور ہمیں اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے،” انہوں نے مزید کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ چیلنجز ابھی باقی ہیں، لیکن صدر ٹرمپ کی کاوشیں ثابت کرتی ہیں کہ سفارت کاری اور مکالمہ ہی کسی بھی تنازعے کا بہترین حل ہے۔