حالیہ برسوں میں یونیورسٹی نے کیا کھویا کیا پایا؟

حالیہ برسوں میں یونیورسٹی نے کیا کھویا کیا پایا؟

وائس چانسلر پروفیسر اکرام الدین اجن کے دور میں LUMHS کی کامیابیاں، چیلنجز اور مستقبل کے منصوبے

جامشورو: لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) نے حالیہ برسوں میں تعلیمی و تحقیقی میدان میں کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں کچھ نمایاں کامیابیاں بھی ہیں اور کچھ چیلنجز بھی۔ وائس چانسلر پروفیسر اکرام الدین اجن کے دور میں یونیورسٹی نے نہ صرف عملی تعلیم کو فروغ دیا بلکہ جدید تحقیقی پروگرامز کا بھی آغاز کیا، تاہم مالی وسائل کی کمی اور انفراسٹرکچر کے مسائل جیسے چیلنجز بھی درپیش رہے۔

کامیابیاں: عملی تربیت پر زور

حال ہی میں LUMHS کے سرجیکل یونٹ-IV میں “ٹشو اینڈ مالیکیولر ڈائیگنوسس” پر پہلا ہینڈز آن ورکشاپ منعقد ہوا، جس میں ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر کے طلباء، پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس اور ہاؤس سرجنز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر اکرام الدین اجن نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “طبی تعلیم میں نظریاتی علم کے ساتھ ساتھ عملی مہارتیں سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔” انہوں نے طلباء کو ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی اور کہا کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی ایسی تربیتی کوششوں کو جاری رکھے گی۔

یہ ورکشاپ LUMHS کی کوششوں کی عکاس ہے کہ وہ طلباء کو جدید طبی علوم سے روشناس کرا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، یونیورسٹی نے حال ہی میں متعدد بین الاقوامی کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کیا ہے، جس سے طلباء اور فیکلٹی کو عالمی سطح کے ماہرین کے تجربات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔

چیلنجز: وسائل کی کمی اور انتظامی دشواریاں

تاہم، پروفیسر اجن کے دور میں یونیورسٹی کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا رہا۔ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے تحقیقی منصوبوں کو تیز رفتار ترقی نہیں مل سکی۔ کچھ طلباء اور اساتذہ نے شکایت کی ہے کہ لیبارٹریز اور لائبریری میں جدید سہولیات کی کمی ہے، جس سے تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے۔ مزید برآں، یونیورسٹی انتظامیہ کو کچھ داخلی مسائل کا بھی سامنا رہا، جن میں تدریسی عملے کی کمی اور بعض شعبوں میں جدید نصاب کی عدم دستیابی شامل ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل: جدیدیت اور تعاون

وائس چانسلر نے مستقبل کے لیے ایک واضح روڈ میپ پیش کیا ہے، جس کے تحت یونیورسٹی کو جدید تحقیقی مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی یونیورسٹیز کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے گا اور جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، فیکلٹی کی تربیت اور طلباء کے لیے اسکالرشپس کے مواقع بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

نتیجہ:

LUMHS نے پروفیسر اکرام الدین اجن کی قیادت میں کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں، خاص طور پر عملی تربیت اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے۔ تاہم، وسائل کی کمی اور انتظامی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ اگر یونیورسٹی مستقبل میں اپنے اہداف پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے بین الاقوامی معیارات کو اپنائے تو یہ طبی تعلیم و تحقیق کا ایک اہم مرکز بن سکتی ہے۔