
“پروفیسر ڈاکٹر زاہد یاسین ہاشمی: طب کے میدان میں انسانیت کا سفیر”
تحریر: عامر مجید، اسلام آباد
کچھ شخصیات اپنی علمیت، خدمت اور خلوص سے معاشرے میں ایسی مثال قائم کرتی ہیں جو نسلوں تک رہنمائی کرتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر زاہد یاسین ہاشمی ایسی ہی ایک عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی طب کے شعبے میں انتھک محنت اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ ان کا شمار پاکستان کے ممتاز لیور اسپیشلسٹ اور معروف معالجین میں ہوتا ہے۔
تعلیمی و پیشہ ورانہ سفر
ڈاکٹر زاہد یاسین ہاشمی نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے طب کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں 1986 میں پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ ان کی لگن اور محنت نے انہیں جلد ہی شعبہ طب میں ایک ممتاز مقام دلایا۔ وہ پنجاب میڈیکل کالج کے پرنسپل اور چیف ایگزیکٹو بھی رہے اور سول ہسپتال، سمنا باد ہسپتال سمیت متعدد طبی اداروں کی قیادت کی۔ 2003 میں انہوں نے لیور سینٹر کی بنیاد رکھی، جو آج بھی ہیپاٹائٹس اور جگر کے مریضوں کے لیے ایک معتبر نام ہے۔
ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ
ڈاکٹر ہاشمی نے ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسی مہلک بیماریوں کے خلاف آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان میں ہر پانچواں شخص ہیپاٹائٹس کا شکار ہے، لیکن بدقسمتی سے اکثر مریضوں کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔ وہ مسلسل عوام کو اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ باقاعدہ چیک اپ کروائیں، کیونکہ ہیپاٹائٹس کی ابتدائی تشخیص ہی اس کے علاج کو ممکن بناتی ہے۔
انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ:
“ہیپاٹائٹس کی علامات کا ظاہر نہ ہونا اس بات کی نشانی نہیں کہ آپ محفوظ ہیں، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اگر آپ میں وائرس موجود ہے تو بہترین وقت میں اس کا علاج کروائیں۔”
خدمتِ انسانیت کا جذبہ
ڈاکٹر ہاشمی صرف ایک معالج ہی نہیں، بلکہ ایک مصلح اور رہنما بھی ہیں۔ ان کی شخصیت میں علم اور روحانیت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف مریضوں کا علاج کرتے ہیں، بلکہ انہیں صحت مند زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ:
“اللہ نے مجھے انسانیت کی خدمت کا موقع دیا ہے، اور میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس مقصد کے لیے وقف کرچکا ہوں۔”
وہ فیصل آباد کے لیور سینٹر میں مستقل طور پر مریضوں کی خدمت کرتے ہیں اور غریب مریضوں کے لیے مفت علاج کی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے اے بی ڈبلیو اے نالج ویلیج جیسے معروف اداروں نے بھی انہیں اپنے طلباء کے لیے رہنما کے طور پر منتخب کیا ہے۔
تحقیق اور عوامی آگاہی
ڈاکٹر ہاشمی نے ہیپاٹائٹس کے حوالے سے متعدد تحقیقی مقالے لکھے ہیں اور سیمینارز کے ذریعے عوام کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ “احتیاط علاج سے بہتر ہے”، اور وہ لوگوں کو صفائی ستھرائی، محفوظ انجیکشن کے استعمال اور خوراک میں احتیاط کی تلقین کرتے ہیں۔
ایک عظیم رول ماڈل
ڈاکٹر زاہد یاسین ہاشمی نہ صرف ایک بہترین ڈاکٹر ہیں، بلکہ ایک عظیم انسان بھی ہیں۔ ان کی سادگی، محنت اور خدمت کا جذبہ ہر کسی کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر مقصد انسانیت کی بھلائی ہو تو ایک شخص پورے معاشرے کو بدل سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے علم اور خدمت کو مزید وسعت عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین!
(عامر مجید نے ڈاکٹر زاہد یاسین ہاشمی کی خدمات کے بارے میں گہری تحقیق کی، ان کے مضامین اور انٹرویوز کا مطالعہ کیا، اور یہ تحریر عوام میں آگاہی پھیلانے کے لیے مرتب کی ہے۔)























