اتنا پڑھ لکھ کر بھی کچھ نہیں سیکھا! کسی کو آپ جیسا بننے کا شوق نہیں! عایزہ خان کو اپنی تعریف کرنا مہنگا پڑ گیا، جانئے تفصیلات

عایزہ خان کو ایکٹنگ اسکول اور سیکھنے پر فخر کرنے پر تنقید کا سامنا
===========

مصنف: سدرہ
12 مئی 2025

پاکستانی انڈسٹری کی معروف اداکارہ عایزہ خان، جو اپنی بے پناہ اداکاری اور 14.6 ملین سے زائد سوشل میڈیا فالوورز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں، حال ہی میں تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں “مہرپوش”، “چوہدری اینڈ سنز”، “میرے پاس تم ہو”، اور “محبت تم سے نفرت ہے” شامل ہیں۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے سے اےزا خان پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازعے پر خاموشی اختیار کرنے کی وجہ سے زیرِ بحث رہی ہیں۔

“میں اےزا خان ہونے کے باوجود کیوں پڑھ رہی ہوں؟”
آج عایزہ خان نے اپنے ایکٹنگ اسکول کے کلاس فیلوز کے ساتھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے ایک انسپائریشنل کیپشن لکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کلاس فیلو نے ان سے پوچھا، “اگر آپ پہلے ہی عایزہ خان ہیں، تو پڑھائی کا کیا فائدہ؟” جس پر انہوں نے جواب دیا، “میں اس لیے نہیں پڑھتی کہ میں اےزا خان ہوں، بلکہ اس لیے پڑھتی ہوں تاکہ اپنی بیٹی، اپنے مداحوں اور دنیا بھر کی لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل بن سکوں۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ دیکھیں کہ اےزا بننا سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ ہے، تم سب لڑکیاں اس سے کہیں بڑھ کر کامیابیاں حاصل کر سکتی ہو۔ اس لیے کبھی سیکھنا مت روکنا اور کبھی اپنی ترقی مت روکنا۔”

سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل
اگرچہعایزہ خان کا یہ پیغام مثبت تھا، لیکن کئی صارفین نے ان پر خود پسندی اور قومی مسائل پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ ایک صارف نے لکھا، “یہ اور ان کے شوہر ہمیشہ سے مغرور اور مصنوعی ثابت ہوتے ہیں، جنہیں صرف فالوورز اور ویوز سے مطلب ہوتا ہے۔ اب میں ان کی مداح نہیں رہی۔”

کچھ دیگر تبصرے:

“آپ ہماری پسندیدہ سیلبریٹی نہیں رہیں، کیونکہ آپ نے ملک کے مشکل وقت میں خاموشی اختیار کی۔”

“جب تک اس عورت کو اپنی خود پسندی سے باہر نکلنا ہوگا! یہی وجہ ہے کہ تعلیم اپنے وقت پر حاصل کرنی چاہیے۔”

“مہیرا خان اور سجل علی جیسی اداکارائیں زیادہ خاکسار ہیں۔”

“جب آپ اپنی قوم کے لیے کھڑی نہیں ہوتیں، تو پھر ہمیں آپ کی پرواہ کیوں ہو؟”

کیا اےزا خان کی بات غلط تھی؟
دوسری طرف، کئی مداحوں نے عایزہ خان کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ تعلیم اور ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا کوئی غلط بات نہیں۔ ایک صارف نے لکھا، “لوگ ہر چیز پر تنقید کرتے ہیں۔ اےزا نے ایک اچھی بات کہی ہے، ہمیں ہمیشہ سیکھتے رہنا چاہیے۔”

اب دیکھنا یہ ہے کہعایزہ خان اس تنقید پر کیا ردِ عمل دیتی ہیں۔ کیا وہ اپنے موقف پر قائم رہیں گی یا عوامی ردِ عمل کے بعد کوئی وضاحت پیش کریں گی؟

پچھلی خبر:
مشی خان نے پاکستانی اداکاروں کی ذمہ داری اور ہندوستانی میڈیا پر تنقید کی

مصنف کے بارے میں:
سدرہ ایک تجربہ کار صحافی اور تخلیق کار ہیں، جنہوں نے مختلف نیوز ایجنسیز اور ویب سائٹس کے لیے کام کیا ہے۔ وہ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں اور ناول نگاری ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔