معروف کالج کی طالبہ لائبریری کی عمارت سے گر کر شدید زخمی ہوئی اور ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئی

کالج کی لائبریری کی عمارت سے گر کر شدید زخمی ہوئی جس نے ہسپتال میں اپنی آخری سانس لی جہاں دوران علاج اس کا انتقال ہوگیا۔
معروف کالج کی طالبہ لائبریری کی عمارت سے گر کر شدید زخمی ہوئی اور ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئی
کالج کی لائبریری کی عمارت سے گر کر شدید زخمی ہوئی جس نے ہسپتال میں اپنی آخری سانس لی جہاں دوران علاج اس کا انتقال ہوگیا۔
معروف کالج کی طالبہ لائبریری کی عمارت سے گر کر شدید زخمی ہوئی اور ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئی
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے معروف کنیئرڈ کالج کی طالبہ لائبریری کی عمارت سے گر کر شدید زخمی ہوئی اور ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کنیئرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے منگل کے روز کالج کی لائبریری کی عمارت سے گر کر شدید زخمی ہوئی جس نے ہسپتال میں اپنی آخری سانس لی جہاں دوران علاج اس کا انتقال ہوگیا۔
ذرائع نے بتایا کہ طالبہ اپنی ساتھیوں کے ہمراہ لائبریری کی عمارت کی پہلی منزل پر کھڑی تھی کہ اس دوران وہ اچانک بے ہوش ہوگئی اور عمارت سے گرگئی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم کالج پہنچ گئی اور زخمی طالبہ کو مقامی ہسپتال منتقل کیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
بتایا گیا ہے کہ ساتھی طالب علم کی موت کی خبر پھیلتے ہی کالج میں غم غم کی لہر دوڑ گئی، اس کے تمام اساتذہ اور ساتھیوں نے طالبہ کی افسوسناک موت پر دلی دکھ کا اظہار کیا اور انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی نقصان ہمت اور حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔
کچھ عرصہ قبل لاہور کی ویمن یونیورسٹی کی طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش میں تیسری منزل سے چھلانگ لگادی تھی، پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ نے مبینہ طورپرتیسری منزل سے چھلانگ لگائی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئی اور اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، لڑکی بی ایس فزکس کی طالبہ تھی جس نے شعبہ سوشل سائنسزکی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی تاہم طالبہ کی چھلانگ لگانے کی وجہ پتا نہیں چل سکی اس واقعے میں طالبہ کی ٹانگیں فریکچرہوئیں، واقعے کے بعد وائس چانسلر نے انکوائری کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
=============================
وائیبھو سوریاونشی نے 14 سال کی عمر میں آئی پی ایل 2025ء میں تاریخ رقم کردی، برق رفتار سنچری بنا کر ریکارڈ بک میں اپنا نام درج کروادیا۔
آئی پی ایل 2025ء کے ایک تاریخی مقابلے میں راجستھان رائلز کے کم عمر ترین کھلاڑی وائیبھو سوریاونشی نے کرکٹ کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔
صرف 14 سال کی عمر میں نوجوان کھلاڑی نے بطور بھارتی کھلاڑی تیز ترین سنچری بنا کر ناصرف آئی پی ایل بلکہ کسی بھی بھارتی کی جانب سے تیز ترین ٹی ٹوئنٹی سنچری کا ریکارڈ قائم کردیا۔
آئی پی ایل کی ٹیم راجستھان رائلز پر میچ فکسنگ کا الزام لگ گیا
گجرات ٹائٹنز کے خلاف 210 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے وائیبھو نے صرف 35 گیندوں پر سنچری داغ دی جو آئی پی ایل کی تاریخ میں کسی بھی بھارتی کھلاڑی کی جانب سے تیز ترین جبکہ لیگ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین سنچری ہے۔
واضح رہے کہ آئی پی ایل کی تاریخ میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ کرس گیل کا ہے۔ یونیورس باس نے 2013 میں رائل چینلجرز بینگلور کی جانب سے کھیلتے ہوئے پونے واریئر کے خلاف صرف 30 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔
سوریاونشی نے بطور بھارتی کھلاڑی یوسف پٹھان کا ریکارڈ توڑا، یوسف نے 2010 کے ایونٹ میں راجستھان رائلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے ممبئی انڈینز کے خلاف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔
تاہم گزشتہ روز ہونے والے میچ میں سوریاونشی کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت راجستھان رائلز نے صرف 15.5 اوورز میں 210 رنز کا ہدف عبور کر کے میچ جیتا۔ ان کے ساتھ یشسوی جیسوال نے بھی شاندار 70 رنز کی اننگز 40 گیندوں پر کھیل کر فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یہی نہیں بلکہ سوریاونشی نے محض 17 گیندوں پر 50 رنز مکمل کر کے آئی پی ایل 2025ء میں تیز ترین نصف سنچری کا اعزاز بھی اپنے نام کیا تھا۔
اس سے قبل گجرات ٹائٹنز کی طرف سے شبمن گل نے 84 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جبکہ جوز بٹلر نے 26 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جس کی بدولت گجرات نے 20 اوورز میں 4 وکٹوں پر 209 رنز کا مضبوط اسکور کھڑا کیا تھا۔























