
پولیو کے خلاف جنگ: بنوں میں نیا کیس سامنے آنے کے بعد تشویش میں اضافہ
بنوں، پولیو وائرس کا ایک اور کیس رپورٹ، رواں سال کیسز کی تعداد 8 ہوگئی
27 اپریل، 2025
اسلام آباد: ملک میں پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد رواں سال پولیو متاثرہ بچوں کی کل تعداد 8 ہوگئی ہے۔ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق، خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے نئے پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہے، جو اس صوبے میں سال 2025 کا تیسرا واقعہ ہے۔

پولیو کے خلاف جدوجہد: ایک طویل تاریخ
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومت اور عالمی ادارے اس موذی بیماری کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ 1994 میں پولیو کے خلاف ملک گیر مہم کا آغاز ہوا، جس کے بعد کیسز میں نمایاں کمی آئی۔ تاہم، بعض علاقوں میں ویکسینیشن کے پروگرامز کو شدت پسندی، غربت اور عوامی بے اعتمادی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا۔
2020 کے بعد سے، پولیو کیسز میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، پاکستان میں پولیو وائرس کا خاتمہ اس لیے مشکل ہو رہا ہے کیونکہ یہاں صاف پانی کی کمی، ناقص صفائی اور ویکسین کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔
موجودہ صورتحال اور حکومتی کوششیں
اس سال کی دوسری قومی پولیو مہم 27 اپریل تک جاری رہے گی، جس میں 5 سال سے کم عمر کے ساڑھے چار کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انسداد پولیو حکام کے مطابق، 26 مئی سے یکم جون تک تیسری ملک گیر مہم چلائی جائے گی، جس کا مقصد ہر ممکن بچے کو ویکسین تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ پولیو کے خلاف جنگ میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اب بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوامی آگاہی، والدین کی تعاون، اور صحت کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری ہی اس بیماری کو جڑ سے ختم کر سکتی ہے۔
حکومت اور عالمی اداروں کی طرف سے عوام سے اپیل ہے کہ وہ پولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ پاکستان کو جلد از جلد پولیو سے پاک کیا جا سکے۔
#پولیو_سے_آزادی #صحت_منڈی_تو_پاکستان_منڈی























