کراچی کے قومی اسٹیڈیم میں PSL کا مکمل فلوپ! انتظامات کی ناکامی نے کرکٹ کے شائقین کو اسٹیڈیم سے دور کر دیا

کراچی کے قومی اسٹیڈیم میں PSL کا مکمل فلوپ! انتظامات کی ناکامی نے کرکٹ کے شائقین کو اسٹیڈیم سے دور کر دیا

کراچی — پاکستان سپر لیگ (PSL) کے نویں ایڈیشن کے باوجود کراچی کے شائقین کرکٹ اسٹیڈیم کا رخ کرنے سے گریزاں نظر آ رہے ہیں۔ انتظامیہ کے ناقص منصوبہ بندی، ٹریفک کے خوفناک جام اور اسٹیڈیم میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے شہریوں کا جوش و خروش ختم کر دیا ہے۔ کیا PSL اب اپنی چمک کھو چکا ہے؟ یا پھر انتظامی نااہلی نے کراچی والوں کو کرکٹ سے بیزار کر دیا ہے؟

ٹریفک کا عفریت اور لاپروائی
ہر میچ کے دن کراچی کے اہم شاہراہیں ٹریفک جام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کے دعووں کے برعکس، نیشنل اسٹیڈیم کے اردگرد گھنٹوں رش جما رہتا ہے، جس کی وجہ سے شائقین میچ کے اہم لمحات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ کئی تماشائی تو اسٹیڈیم پہنچنے سے پہلے ہی تھک ہار کر گھر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شہر کی انتظامیہ نے PSL کے لیے کوئی جامع ٹریفک پلان تیار نہیں کیا تھا؟

اسٹیڈیم میں ناقص سہولیات
اسٹیڈیم میں داخل ہوتے ہی تماشائیوں کو پانی کی قلت، گندے ٹوائلٹس اور خوراک کی انتہائی مہنگی اور ناقص معیار کی اشیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ پارکنگ کا کوئی مناسب انتظام نہیں، جبکہ سیکیورٹی کے نام پر صرف دکھاوا کیا جاتا ہے۔ کیا PSL انتظامیہ عوام کو اچھا تجربہ دینے کے بجائے صرف پیسے کمانے پر توجہ دے رہی ہے؟

ٹکٹوں کی غیر معقول قیمتیں اور خالی اسٹینڈز
PSL کے ٹکٹوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ پچھلے سالوں کے مقابلے میں اس بار اسٹیڈیم میں خالی اسٹینڈز زیادہ نظر آ رہے ہیں۔ کیا لیگ اب صرف امیروں کے لیے رہ گئی ہے؟ یا پھر انتظامیہ نے عوامی دلچسپی کو بالکل نظرانداز کر دیا ہے؟

شائقین کا ردعمل: “ہم نے PSL سے دل چھڑا لیا!”
کئی شائقین کا کہنا ہے کہ وہ اسٹیڈیم جانے کے بجائے میچز گھر پر ٹی وی پر دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ایک تماشائی عمران احمد نے کہا، “ہر سال وہی دکھاوا، وہی ناقص انتظامات۔ اب ہم تھک چکے ہیں۔”

PSL انتظامیہ کے خاموش تماشائی!
دلچسپ بات یہ ہے کہ PSL اور PCB کے عہدیداران ان مسائل پر خاموش ہیں۔ کیا وہ اس بات سے لاعلم ہیں یا پھر انہیں عوام کی پروا ہی نہیں؟ اگر یہی صورتحال رہی تو کیا PSL اپنی مقبولیت مکمل طور پر کھو دے گا؟

آخر کب تک کراچی کے شائقین کرکٹ انتظامیہ کی نااہلی کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن -X 2025 کے میچز12، 15، 18، 20 اور21 اپریل 2025 کو نیشنل بینک اسٹیڈیم (نیشنل اسٹیڈیم )کراچی میں کھیلے جا ئینگے۔
سر شاہ سلیمان روڈ دونوں اطراف کے روڈ ٹریفک کیلئے کھلے رہینگے۔ اس کے علاوہ میچ دیکھنے کیلئے آنے والے شائقین کرکٹ کیلئے پارکنگ کیلئے خصوصی ٹریفک پلان مرتب کیا ہے ۔

پارکنگ کے مقامات اور ان کے راستے

o نیشنل کوچنگ سینٹر /چائنا گراؤنڈ پارکنگ
کارساز سے آنے والے حضرات حبیب ابراہیم رحمت اللہ روڈ ، اسٹیڈیم فلائی اوور کے نیچے سے ہوتے ہوئے سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر /چائنا گراؤنڈ میں اپنی گاڑی پارک کریں۔
ملینیم سے آنے والے اسٹیدیم روڈ(پیر صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ) سے ہوتے ہوئے ، اسٹیڈیم فلائی اوور کے نیچے سے دائیں جانب سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر /چائنا گراؤنڈ میں اپنی گاڑی پارک کریں۔
نیوٹاؤن سے آنے والے حضرات اسٹیدیم روڈ(پیر صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ) سے ہوتے ہوئے ، آغا خان ہاسپٹل کے بعد بائیں جانب سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر /چائنا گراؤنڈ میں اپنی گاڑی پارک کریں۔
نیز
ہیوی ٹریفک: سہراب گوٹھ سے جانب نیپا ۔ لیاقت آباد نمبر 10 سے جانب حسن اسکوائر ۔ پی پی چورنگی سے جانب یونیورسٹی روڈ ۔کارساز سے اسٹیڈیم ۔ ملینیم تا نیو ٹاؤن ۔ اسٹیڈیم سگنل تا حسن اسکوائر ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہوگا۔

عوام الناس سے گذارش ہے کہ زحمت و پریشانی سے بچنے کےلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹریفک پولیس سے تعاون کریں۔ درج بالا ہدایات پر عمل کریں ۔اپنی گاڑیوں /موٹر سائیکلوں کو کسی سروس روڈ یا مین روڈ پر کھڑی نہ کریں بلکہ اوپر بتائے گئے پارکنگ مقام پر ہی پارک کریں ۔